لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 104 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 104

104 کے لیکچر کا حاضرین پر یہ اثر تھا کہ رونے بیچنے اور چلانے کی چاروں طرف سے آوازیں نکل رہی تھیں۔تقریر کے بعد چند ہند و معززین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مبارکباد دے کر کہا کہ اگر آپ وہی کلمہ پھر پڑھتے تو ہم پورے مسلمان ہو جاتے لیکن آدھے مسلمان تو ہو گئے ہیں۔ان دنوں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بڑے زور سے مخالفت کر رہے تھے ایک اور شخص جو گدڑ کے نام سے مشہور تھا مگر دراصل اس کا نام محمد یاسین ولد حافظ محمود تھا اور کسی عدالت میں مختار تھا اور موچیدروازہ کا رہنے والا تھا۔عموماً حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر لچر اعتراض کیا کرتا تھا۔ذکر حبیب کی ایک تقریر میں جو آپ نے مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ میں فرمائی۔ایک خاکروبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: مو چیدروازہ کے ایک شخص محمد سلطان کے ذریعہ وہ شاہی مسجد میں جا کر مسلمان ہو گئی۔اس کے رشتہ داروں نے بہتیری مزاحمت کی مگر وہ اپنے ارادہ سے باز نہ آئی۔بعد ازاں اسے حضرت مولوی غلام حسین صاحب امام مسجد گٹی کے پاس پہنچایا گیا۔انہوں نے اسے میرے پاس بھیج دیا۔حضرت مفتی صادق صاحب ان ایام میں یہاں ہی تھے۔میں نے اس عورت کو نئے کپڑے بنوا دیئے اور قادیان بھجوانے کے لئے حضرت مفتی صاحب کے پاس بھیج دیا۔جب وہ قادیان بھجوائی گئی تو قادیان کی عورتیں اس سے نفرت کرتی تھیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے اپنے گھر میں رکھ لیا۔حضور کا ایسا کرنے سے مقصد یہ تھا کہ تا وہ لوگ جو ہندووانہ اثر کے ماتحت ادنی اقوام کے افراد سے ان کے اسلام قبول کر لینے کے بعد بھی نفرت کرتے ہیں انہیں سبق حاصل ہو اور وہ نفرت نہ کریں۔ے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں : " مجھے یاد ہے ایک دفعہ مکرم میاں معراج دین صاحب عمر نے کسی بات کے دریافت کرنے کے واسطے ایک چھوٹا سا دو سطر کا رقعہ حضرت مرزا صاحب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں لکھا۔حضرت نے چند لفظوں میں اس کا جواب دے دیا۔مگر پہلے السلام علیکم ورحمۃ اللہ لکھا۔اور پھر لکھا کہ ہر رقعہ پر مضمون سے قبل السلام علیکم لکھا کریں۔میاں صاحب کے رقعہ پر السلام علیکم نہ تھا۔۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر حضرت میاں چراغ