لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 106
106 ( ب ) جہاں اب مدرسہ احمدیہ ہے۔اس جگہ فصیل تھی جو ٹوٹ گئی تھی۔ایک دیوار چوبیس فٹ لمبی اس وقت موجود تھی وہ نیلام ہوئی تو تمہیں روپے میں آپ ( یعنی حضرت اقدس۔ناقل ) نے خرید لی۔اور اس جگہ عمارتیں بنوائیں۔عمارتیں بننے سے قبل یہاں آپ ٹہلا کرتے تھے۔یہ جگہ بذریعہ خرید آپ کی ملکیت تھی اس لئے اس جگہ سے کسی کو مٹی گارا لینے کا حق نہیں تھا۔مگر آپ کے رشتہ دار زبردستی یہاں سے مٹی گارا لیتے تھے اور احمدیوں کو تنگ کرتے تھے۔بعض شریر لوگ بھی ان کی شہ پر احمد یوں کو تنگ کرتے مگر حضرت اقدس صبر اور تحمل سے کام لیتے۔آپ نے اس زمانہ میں بعض زمین کے ٹکڑے بہت زیادہ قیمت دے کر خریدے تا کہ جھگڑا ختم ہو جائے آپ فرماتے تھے کہ جو مانگتے ہیں دے دو۔الغرض دشمنوں کے ساتھ بھی آپ کے تعلقات محسنانہ تھے۔آپ کا طریق تھا کہ ان تعلقات کو جو خدا تعالیٰ کیلئے ہوں مقدم رکھتے تھے۔آپ دنیوی املاک اور مقبوضات کو بیچ سمجھتے تھے۔غرض اللہ تعالیٰ کے رستے میں ہر چیز کو لاشے سمجھ کر قربان کرنے پر آمادہ رہتے تھے۔(ج) آپ کے ازار بند کے ساتھ چابیوں کا گچھا بندھا رہتا تھا۔یہ چابیاں ان صندوقچوں کی تھیں۔جن میں مختلف مخالف مولویوں کے گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط مقفل تھے جن پر آپ کو قلم اٹھانا پڑتا تھا اور مضامین لکھنے ہوتے تھے اور وہ صندوق جن میں ضروری کا غذات اور کتا بیں تھیں۔پ اپنے پاس عمدہ اور اچھی دوائیں بھی رکھا کرتے تھے۔وہ بھی محفوظ رکھا کرتے تھے۔(د) فرمایا کرتے تھے ” خدا تعالیٰ کی عطا کی حفاظت بھی شکر میں داخل ہے۔(س) حضور کا لباس سادہ ہوتا تھا۔مگر حضور مولویانہ اور صوفیانہ لباس نہیں پہنا کرتے تھے۔شرفاء کے رنگ کا پاجامہ شرعی سلوار کی طرز کا پاجامہ مگر کھلا۔میں نے ہمیشہ دیکھا دیسی کر تہ کھلی آستینوں والا پہنا کرتے تھے۔کر تہ پر ایک صدری ہوا کرتی تھی۔جس کی بڑی بڑی جیبیں ہوتیں۔اوپر کوٹ یا جبہ پہنا کرتے۔سرمبارک پر پگڑی پہنتے۔جرا میں کھلی پہنتے۔اعصاب کو ہمیشہ گرم رکھتے۔جوتی کھلی پہنا کرتے تھے۔(ص) ایک دفعہ شیخ مولا بخش صاحب سیالکوٹی نے انگریزی جوتا بھیجا۔تھوڑی دور چل کر ایڑی کو دبا دیا۔فرمایا۔”بڑی تکلیف ہوئی۔ہم تو ایک انگل کھلا رکھتے ہیں۔تنگ جوتا پاؤں کے لئے دوزخ ہوتا ہے۔“ ۱۰۔حضرت میاں معراج دین صاحب عمر کا نام ۳۱۳ اصحاب کی فہرست مندرجہ ” انجام آتھم رض میں ۷۴ے نمبر پر ہے۔محترم مولوی محب الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ