لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 102 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 102

102 آیا ہوا تھا جو اس مکان کے سامنے تھا۔اس میں کئی قسم کی مومی تصویر میں تھیں۔انسانی اعضاء کے بھی مومی مجسمے تھے جیسے انسان کا دل ہڈیاں دماغ وغیرہ وغیرہ سارے اعضا انسان کے دیے ہوئے تھے۔ان تصویروں کو بھی حضرت صاحب نے دیکھا اور فرمایا تھا کہ علمی رنگ میں اس قسم کی تصویروں سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔۲۔حضور کو لاہور اسٹیشن پر کچھ دیر انتظار کرنے کی ضرورت پیش آئی۔حضرت ام المومنین بھی آپ کے ساتھ تھیں۔حضرت صاحب حضرت ام المومنین کو ساتھ لے کر اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسٹیشن پر آزادی سے ٹہل رہے تھے۔اس پر مولوی عبد الکریم صاحب نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو کہا کہ آپ جا کر کہیں کہ اسٹیشن پر بہت سے لوگ ہیں وہ کیا کہیں گے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ مجھے تو اتنی جرات نہیں۔اس پر مولوی عبد الکریم صاحب خود گئے۔حضور نے ان کی بات سن کر فر مایا کہ آخر لوگ کیا کہیں گے یہی نا کہ مرزا اپنی بیوی کے ساتھ پھر رہا ہے۔نوٹ : چونکہ اس واقعہ کے مقام میں اختلاف ہے اس لئے خاکسار مؤلف کے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔یہ واقعہ لا ہور اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر پر اور مشرقی پل کے قریب کا ہے۔۳۔آپ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ۱۸۹۲ء میں جب حضور لاہور میں تشریف لائے آسمانی فیصلہ سنانے کیلئے تو سید مٹھا بازار میں محبوب رایوں کا مکان ستائیس روپے ماہوار کرایہ پر لیا گیا تھا۔آسمانی فیصلہ حاجی شمس الدین صاحب نے پڑھ کر سنایا تھا۔انہیں ایام کا واقعہ ہے کہ حضور حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب والی مسجد میں ظہر کی نماز پڑھ کر واپس مکان کی طرف جارہے تھے کہ پیغمبر اسنگھ کے بھائی اللہ دتا نام نے جو مدعی مہدویت تھا اور سنگترے بیچا کرتا تھا۔حضرت کو بے خبری میں پیچھے سے پکڑ کر گرانے کی کوشش کی تھی جس سے حضور کی پگڑی گرگئی تھی۔ہم لوگ کوئی دس گز کے فاصلے پر پیچھے تھے۔ہم اسے پکڑنا چاہتے تھے مگر حضور نے فرمایا۔اسے چھوڑ دو۔یہ بیچارہ سمجھتا ہے کہ میں نے اس کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔۴۔ایک شخص جس کا نام سائیں سراج الدین تھا، پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑہ والوں کا مرید تھا اور