لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 101
101 نکل چکی تھی۔فانالله و انا اليه راجعون۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اس خاندان کے نوجوانوں میں بیداری پیدا ہو چکی ہے اور مالی لحاظ سے ان کا قدم ترقی کی طرف اٹھ رہا ہے۔خدا کرے کہ یہ پھر اپنے بزرگوں کی پہلی سی عظمت و جاہ کو دوبارہ حاصل کر لیں۔آمین اللھم آمین۔حضرت میاں معراج دین صاحب عمر ولادت: انداز اه۷ ۱۸ ء -۱۸۹۲ء ۱۸۹۷ء بکر می بیعت حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل سے آٹھ دن پہلے کی تھی۔وفات : ۲۸۔جولائی ۱۹۴۰ء عمر : ۶۵ سال آپ لاہور کی فیملی کے سب سے پہلے احمدی تھے۔بیعت حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل سے آٹھ دن پہلے کی تھی۔آپ کو تحریر کا خوب ملکہ حاصل تھا اور ایک قابل انشاء پرداز تھے۔براہین احمد یہ ہر چہار خصص جب دوسری مرتبہ طبع ہوئی تو آپ نے اس کا دیباچہ لکھا جس میں حضرت اقدس کے خاندانی حالات درج فرمائے۔بعض کتابوں کے آپ نے تراجم بھی شائع کروائے تھے۔اخبار ” بدر کے مالک تھے۔لاہور کے سرکردہ اور اولین احمدیوں میں سے تھے۔حضرت اقدس کی تائید میں ٹریکٹ وغیرہ لکھ کر شائع کرواتے رہتے تھے۔آپ کی چند روایات درج ذیل ہیں: ا۔جب حضور ایڈیٹر ناظم الہند کے خلاف مقدمہ میں شہادت دینے کی غرض سے ملتان تشریف لے گئے تو ملتان میں حضور کے استقبال کا بڑا انتظام کیا گیا تھا۔مولوی بدرالدین صاحب پرائمری اسلامیہ سکول کے ہیڈ ماسٹر بڑے بارسوخ آدمی تھے۔انہوں نے تمام سکول کے لڑکوں کو سڑک پر دور و یہ یکرنگ پگڑیاں بندھائے ہوئے اور ہاتھوں میں جھنڈیاں دیئے ہوئے کھڑا کیا ہوا تھا۔جب حضور ان کے درمیان سے گذر رہے تھے تو وہ دعائیہ کلمات پڑھتے السلام علیکم کہتے اور نظمیں پڑھتے تھے۔واپسی پر حضور شیخ رحمت اللہ صاحب کے مکان پر فروکش ہوئے تھے۔شیخ صاحب ان دنوں اپنے بھائی کے ساتھ دکان میں شریک کار تھے اور دکان کا نام بمبئے ہاؤس تھا جو موجودہ مارکیٹ کے سامنے ایک عمارت میں تھی۔حضرت صاحب نے اوپر کی منزل میں تقریر بھی فرمائی تھی۔ان دنوں مومی تصویروں کا ایک تماشا