لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 103
103 شیخ نورالدین نانبائی کے مکان پر رہا کرتا تھا۔ایک روز وہ حضرت صاحب کی ملاقات کرنے کے بہانے سے آیا اور سامنے آ کر بیٹھ گیا۔جب موقعہ پایا تو اجازت چاہی کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔حضور نے اجازت دی۔اس نے اس قدر گالیاں دیں کہ گالیوں کی لغات میں کوئی لفظ اس نے باقی نہ چھوڑا۔جب ذرا ٹھہر جاتا تو حضور فرماتے کہ سائیں صاحب! کچھ اور۔وہ پھر بھڑک اٹھتا اور پھر گالیاں شروع کر دیتا۔حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ داڑھی پر ہاتھ رکھے اس کی گالیاں سنتے رہے۔ہمیں جوش پیدا ہوا مگر حضور نے ہمیں منع فرما دیا۔اس مکان میں حضور کی ملاقات کے لئے ہند و عورتیں اور مرد بھی آتے تھے مگر عام طور پر نہایت مؤدب رہتے تھے۔آریہ اور دہریہ بھی سوالات کرنے آتے تھے جن کے حضور جوابات دیا کرتے تھے اور وہ آرام سے چلے جاتے تھے۔مگر جاہل مسلمانوں نے عام طور پر بازاری لڑکوں کو انگیخت کر کے گالیاں دلوانے کی خوب خدمت سرانجام دی۔۱۸۹۲-۵ء کے بعد ایک مرتبہ حضور پھر تشریف لائے اور میراں بخش کی کوٹھی میں قیام فرمایا۔ان ایام میں حضرت صاحب نے ایک اشتہار بھی شائع فرمایا تھا کہ میں کل عصر کی نماز کے بعد چو نہ منڈی میں میراں بخش کی کوٹھی میں اپنے عقائد بیان کروں گا۔حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب بھی چند دنوں کی رخصت حاصل کر کے جموں سے تشریف لائے ہوئے تھے۔چنانچہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر فرمائی اور پھر حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے۔حاضری قریباً دس ہزار تھی۔کوٹھی کے صحن اور آس پاس کے مکانوں کی چھتوں پر اور کوچوں میں باہم اس طرح پیوستگی کے عالم میں لوگ کھڑے تھے کہ ہل جل بھی نہیں سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب تھک گئے تو اندر کمرے میں تشریف لے گئے۔ہم نے آپ کو دبانا شروع کیا۔حضور کے جانے کے معا بعد حضرت مولوی صاحب کھڑے ہو گئے میز کے اوپر بدوی طرز میں۔اور سب سے پہلے کلمہ شہادت بلند آواز سے اور ایک جذ بہ کے ساتھ پڑھا۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گردنواح کی اینٹوں میں سے بھی کلمہ کی آواز گونج رہی ہے۔آپ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کا بیان ہے کہ ۱۸۹۲ء میں حضور نے پہلے منشی میراں بخش صاحب کی کوٹھی میں قیام فرمایا اور پھر چند دن بعد محبوب را یوں والے مکان میں منتقل ہو گئے۔دیکھئے حیات طیبہ ایڈیشن اوّل صفحہ ۱۳۹ اصل حقیقت کا علم اللہ کو ہے۔مؤلف