لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 535
535 فسادات کی آگ ان ایام میں ہندو مسلم فسادات کی آگ پورے زور سے بھڑک رہی تھی۔۱۷ مارچ ۱۹۴۷ء کو پنجاب کے فرقہ وارانہ فسادات کے متعلق برطانوی پارلیمنٹ میں مسٹر آرتھر ہینڈرسن نائب وزیر ہند نے بعض سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ۴۔مارچ کو لاہور سے فساد کی ابتداء ہوئی اور اس کے بعد امرتسر راولپنڈی اور ملتان بھی فساد کی زد میں آگئے۔آپ نے کہا۔۔مغربی پنجاب کے مختلف علاقوں میں فساد ہو رہا ہے صورت حالات پر قابو پانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے گوا بھی تک مکمل اطلاعات موصول نہیں ہوئیں لیکن اتوار تک کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۰۴۳- اشخاص ہلاک اور ۱۱۰۰ کے قریب شدید مجروح ہوئے۔برطانوی افواج کو کسی ایک فرقے کے خلاف استعمال نہیں کیا جا تا بلکہ وہ قانون شکنی کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔13- غرضیکہ یہ دن بڑے ہی خطرناک تھے۔روزانہ قتل و غارت کے واقعات اس کثرت کے ساتھ ہوتے تھے کہ الامان والحفیظ ! حکومت کی طرف سے کرفیو لگا رہتا تھا اور صرف اتنا وقت کر فیو اٹھتا تھا جس میں لوگ ضروریات زندگی خرید سکیں۔متعدد دکانیں جل گئیں۔مکانات خاکستر ہو گئے۔چُھرا گھونپنے کی وارداتیں بکثرت ہونے لگیں۔مختلف اقوام کے پرانے گہرے دوست ایک دوسرے سے بد کنے لگے۔گاڑیاں اور بسیں اکثر بند ہوگئیں بلکہ پیدل چلنا بھی دشوار ہو گیا۔تقسیم پنجاب مارچ ۱۹۴۷ء میں لارڈ ویول کی جگہ لارڈ مونٹ بیٹن ہندوستان کے وائسرائے مقرر ہوئے اور انہوں نے ہندوستان پہنچتے ہی ہندو اور مسلم لیڈروں سے ملاقاتیں شروع کر دیں۔مگر جب ملک کی یہ دونوں اہم قو میں کسی ایک فارمولا پر متفق نہ ہو سکیں۔تو ۲ - جون ۱۹۴۷ء کو گورنمنٹ کی طرف سے اعلان کر دیا گیا کہ مسلم اکثریت ۱۹۴۱ء کی مردم شماری کی رُو سے شمار ہوگی۔اس اصل کے مطابق پنجاب کے سترہ اضلاع بشمول گورداسپور پاکستان میں آتے تھے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی اعلان کر دیا گیا کہ حدود کا آخری فیصلہ باؤنڈری کمیشن کرے گا۔نیز اس منشور کے فقر 90 میں یہ الفاظ بھی بڑھا دیے گئے کہ علاقوں کی تقسیم میں آبادی کے علاوہ Other Factors یعنی دوسرے حالات کو بھی مدنظر رکھا