لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 534
534 کے نعرے بلند ہوتے تھے اور ہمارے علاقہ سے اس کے جواب میں اللہ اکبر کے نعروں سے فضا گونج اٹھتی تھی حضرت ملک خدا بخش صاحب جنرل سیکرٹری اس تعمیر کی نگرانی کا کام کرتے تھے اور محترم میاں عبدالحمید صاحب مرحوم و مغفور جمعہ کی شام کو مستریوں اور مزدوروں کو ان کی اجرت ادا کیا کرتے تھے۔خاکسار کے سپرد یہ ڈیوٹی تھی کہ خاکسار جمعہ کی نماز میں احباب کو تحریک کیا کرتا تھا کہ دوست مزدوروں کی اجرت کے لئے چندہ دیتے جائیں اور باوجود اس کے کہ اس زمانہ میں آج کل کے زمانہ سے جماعت کی تعداد بہت کم تھی مگر اسی نوے روپے بآسانی جمع ہو جاتے تھے۔اور اسی قدر مستریوں اور مزدوروں کی اجرت ہوا کرتی تھی۔ناشکر گزاری ہوگی کہ اگر اس امر کا ذکر نہ کیا جائے کہ اس مکان میں جولو ہا خرچ ہوا ہے وہ سارے کا سارا حضرت میاں محمد موسیٰ صاحب رضی اللہ عنہ کی اولا د محترم میاں محمد حسین صاحب اور محترم میاں عبدالمجید صاحب نیلا گنبد والوں نے دیا تھا اور لکڑی کا سارا سامان محترم میاں عطاء الرحمن صاحب اور محترم میاں عبدالرحمن صاحب راوی روڈ والوں نے بڑی فراخدلی کے ساتھ مہیا کیا تھا۔ان کے اخلاص کا یہ عالم تھا کہ جب ان سے اس مکان کی تعمیر کے لئے ایک ہزار روپیہ مانگا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایک ہزار روپیہ ہم دے دیتے ہیں۔لیکن اگر جماعت ہم سے عمارتی لکڑی کا سامان لینا چاہے تو اس میں جماعت کا فائدہ ہے۔جس جس سامان کی آپ کو ضرورت ہو چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر آپ پیغام بھیج دیا کریں۔چنانچہ مطلوبہ سامان دروازے کھڑکیاں، روشندان، چھت کا سامان وغیرہ چند گھنٹے کے نوٹس پر مسجد میں پہنچ جایا کرتا تھا اور ایک محتاط اندازے کے مطابق چار ہزار روپے کا سامان ان دونوں بھائیوں نے دیا تھا۔جہاں تک مجھے یاد ہے کہ ایک ہزار روپیه چنده محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت اور آپ کے خاندان نے ایک ہزار روپیہ محترم ملک عبدالرحمن صاحب قصور والوں نے اور غالباً پانچ صدر و پی محترم چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب نے دیا تھا۔محترم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۳۴ء میں جب مسجد کی تعمیر شروع کی گئی تو اس موقعہ پر بھی حضرت مستری میاں محمد موسیٰ صاحب نے لوہے کا سارا سامان اپنی گرہ سے دیا تھا۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔