لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 508 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 508

508 ایک حصہ مظلوم کشمیریوں کی قانونی امداد بھی تھا۔جس میں احمدی وکلاء نے اپنی پریکٹس کو چھوڑ کر دن رات انتھک محنت کر کے ایسے شاندار کارنامے سرانجام دیئے کہ کشمیر کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔اس وقت مضمون کے لحاظ سے محترم شیخ بشیر احمد صاحب کی قانونی خدمات کا تھوڑا سا تذکرہ ہے۔کشمیر کمیٹی کی مسلسل اور منظم کوشش اور جد وجد کے نتیجہ میں جب ریاستی حکام نے گھٹنے ٹیک دیئے تو مہا راجہ ہری سنگھ صاحب والی جموں و کشمیر نے ۱۱۔نومبر ۱۹۳۱ء کو ایک اعلان کے ذریعہ دو کمیشن مقرر کئے جن میں سے ایک کا نام تھا مڈلٹن کمیشن اور دوسرے کا گلانسی کمیشن“ ان کمیشنوں کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ان کے سامنے کشمیری مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق دلوانے کے لئے کارآمد اور مفید شہادتیں پیش کریں تا کمیشن ریاست کے مسلمانوں کو ایسے مشورے دے سکیں جن پر کار بند ہو کر وہ اپنا کیس مضبوطی کے ساتھ اور مؤثر رنگ میں پیش کر سکیں۔مظلومین کی وکالت کرنے اور مڈلٹن کمیشن کے سامنے شہادت پیش کرنے کے سلسلہ میں جو خدمات محترم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ نے سرانجام دیں ان سے متاثر ہو کر شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے ۲۱۔دسمبر ۱۹۳۱ء کو سرینگر سے ”الفضل“ کے نام یہ پیغام بھیجا کہ شوپیاں کا مقدمہ قتل گذشتہ ہفتہ سے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لا ہور نہایت قابلیت کے ساتھ چلا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایک ملزم رہا کر دیا گیا ہے۔شیخ بشیر احمد صاحب نے ہمارے مفاد کی خاطر جو قربانی کی ہے اس کے ہم بے حد ممنون ہیں۔آپ نے مڈلٹن ، تحقیقاتی کمیٹی کے سلسلہ میں بھی ہمیں قابل قدر را مداد دی ہے۔ہم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صمیم قلب کے ساتھ شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے ایسا قابل قانون دان ہماری امداد کے لئے بھیجا،۷۳ شوپیاں کے علاوہ علی بیگ میر پور کے مقدمہ کی بھی آپ نے پیروی کی اور اس مقدمہ کے ۲۴ ملزمان نے مندرجہ ذیل الفاظ میں آپ کا شکریہ ادا کیا : وو ” سب سے بڑھ کر ہم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممنون ہیں جنہوں نے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو ہمارے مقدمہ کی بحث کے لئے ہماری درخواست کو قبول کرتے ہوئے