لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 507
507 ۱۷۔مکرم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب ۱۸ - مکرم ملک خدا بخش صاحب ۱۹۔مکرم قریشی محمود احمد صاحب ایڈووکیٹ ممکن ہے بعض اور احباب بھی ممبر رہے ہوں مگر جہاں تک دفتر جماعت احمد یہ لاہور کے ریکارڈ کا تعلق ہے انہی احباب کا ذکر پایا جاتا ہے۔محترم ملک خدا بخش صاحب جنرل سیکرٹری تھے اور محترم چوہدری عبد الرحیم صاحب پرسنل اسسٹنٹ مجلس عاملہ کے اجلاس محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت کے مکان ۱۳ ٹمپل روڈ پر ہوتے رہے۔محترم شیخ صاحب کی کشمیر کمیٹی میں خدمات محترم شیخ صاحب کو حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ارشاد کے ماتحت کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کی قانونی خدمات سرانجام دینے کا بہت موقعہ ملا۔اوراس کی تقریب یوں پیدا ہوئی کہا۱۹۳ء میں کشمیریوں کی مظلومیت سے متاثر ہو کر حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے شملہ میں نواب سر ذوالفقار علی خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ کی کوٹھی پر ہندوستان کے مسلم زعماء کا ایک اجلاس مسئلہ کشمیر پر غور کرنے کے لئے بلایا۔دوران گفتگو میں یہ فیصلہ ٹھہرا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جس کا نام "آل انڈیا کشمیر کمیٹی رکھا جائے اور وہ کمیٹی اس مشکل مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں لیکر ایک تنظیم کے ساتھ حل کرے۔ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب شاعر مشرق نے تجویز کی کہ اس کمیٹی کے صدر امام جماعت احمد یہ ہونے چاہئیں کیونکہ ان کے پاس وسائل بھی ہیں اور کام کرنے والے مخلص کا رکن بھی۔خواجہ حسن نظامی صاحب نے فوراً اس تجویز کی تائید کی۔اس پر سب طرف سے آوازیں آنا شروع ہوئیں۔درست ہے درست ہے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ہر چند فرمایا کہ ” مجھے اس تجویز سے ہرگز اتفاق نہیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اور میری جماعت ہر رنگ میں کمیٹی کے ساتھ تعاون کرے گی لیکن مجھے صدر منتخب نہ کیا جائے مگر ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب نے کہا ”حضرت صاحب! جب تک آپ اس کام کو صدر کی حیثیت سے نہ لیں گے یہ کام نہیں ہوگا ۲ کے اس پر حضرت خلیفتہ المسیح نے تمام زعماء کے اصرار پر صدارت قبول فرمالی اور خدا کے فضل وکرم سے تھوڑے عرصہ کے اندر اندر ایسا عظیم الشان کام کیا کہ اپنے اور بیگانے سب دنگ رہ گئے۔اس کام کا