لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 461 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 461

461 اگر حضور خود ملاقات نہ کرتے تو اس تبلیغی تحفہ کا وہ اثر ہر گز نہ ہوتا جو ملاقات کے بعد ہوا۔حضور کی عظیم شخصیت کا شہزادہ پر بہت ہی گہرا اثر پڑا تھا۔خصوصاً اس لئے بھی کہ حضور نے ملاقات سے قبل گورنر پنجاب کی معرفت یہ امر منوا لیا تھا کہ حضور مغربی طرز ملاقات کے خلاف اسلامی طرز ملاقات کو اختیار فرمائیں گے۔اس رسالہ میں حضور نے نہایت ہی احسن طریق سے عیسائیت کا بطلان اور اسلام کے فضائل بیان فرمائے ہیں۔اور ایسے خوبصورت پیرا یہ میں یہ رسالہ لکھا گیا ہے کہ جب شروع کیا جائے ختم کرنے سے قبل اسے ہاتھ سے چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔مباحثہ لاہور ۱۹۲۲ء میں حضور چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی کوٹھی میں محترم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب نے پادری چنن خان کے ساتھ اختلافی مسائل پر ایک کامیاب مناظرہ کیا۔۱۸ ملک بھر کو پیغام صلح اور ہندو مسلم مشکلات کا صحیح حل ۱۹۲۲ء میں مہاتما گاندھی اور مولانا محمد علی و شوکت علی صاحبان کے دوروں کی وجہ سے ہندو مسلمانوں میں اتحاد اور یگانگت کی ایک لہر دوڑ گئی تھی اور سارا ملک اس امر پر متحد ہو گیا تھا کہ انگریزوں کی غلامی سے ہندوستان کو آزاد کروایا جائے مگر آریوں نے ملکا نہ میں شدھی اور سگھٹن کی تحریک جاری کر کے مسلمانانِ ہندوستان کے جذبات کو سخت مجروح کیا۔جس کی وجہ سے ملک کا امن برباد ہو گیا۔ہندو مسلم فسادات روزانہ کے معمول بن گئے۔ان حالات کو دیکھ کر حضرت امیر المؤمنین خلیفہ السیح الثانی رضی اللہ عنہ سخت مضطرب ہو کر میدانِ عمل میں نکل آئے اور حضور نے ہندوستان کی تمام قوموں کے نام صلح کا پیغام دیتے ہوئے قومی اور ملکی مشکلات کا صحیح حل اہل وطن کے سامنے رکھا اور اس کی تقریب یوں پیدا ہوئی کہ حضور نے لاہور تشریف لا کر ۱۴۔نومبر ۱۹۲۳ء کو خان بہادر شیخ عبد القادر صاحب کی صدارت میں بریڈ لاء ہال میں ایک تقریر کی جس میں ہندو اور مسلمان کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔خان بہادر صاحب موصوف نے اپنی افتتاحی تقریر میں فرمایا: