لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 460 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 460

460۔تھے۔کہیں منکرین الہام و نبوت کو قائل کرتے تھے۔غرض ایک کیفیت تھی۔ایک حال تھا۔ایک ولولہ تھا جو چلتا پھرتا اور کام کرتا اور لوگوں کو کام کرنے پر آمادہ کرتا نظر آتا تھا۔اس سفر میں بہت سے لوگوں کے شکوک مذہب کے متعلق دور ہوئے۔بہت سے اوہام باطل ہوئے۔اور قریباً بیس پچیس شخصوں نے بیعت بھی کی۔۱۵ مسجد احمد یہ مغلپورہ گنج میں دو نفل دو حضرت میاں محمد موسیٰ صاحب ( نیلہ گنبد لاہور) نے مغل پورہ گنج میں ایک مسجد تعمیر کرائی تھی۔جب حضور لاہور میں تشریف لائے تو اس موقعہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے انہوں نے حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور از راه نوازش مسجد کو دیکھ کر اپنے غلام کی حوصلہ افزائی فرمائیں۔چنانچہ حضور ۲۶۔فروری ۱۹۲۲ء کو مغل پورہ گنج تشریف لے گئے اور اس مسجد میں دو نفل نماز بھی پڑھائی۔11 احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں تقریر ۲۷۔فروری ۱۹۲۲ء کو حضور نے عہدیداران احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کی درخواست پر ان کے ایک اجلاس میں روح کی نشاۃ ثانیہ کے موضوع پر ایک پر از معلومات تقریر فرمائی جس سے حاضرین کی مذہبی معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔کلا لاہور کے اس قیام میں بھی جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے بہت سے معززین حضور کی ملاقات کے لئے تشریف لائے جن میں سے دیال سنگھ کالج کے پرنسپل خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔تحفه پرنس آف ویلز میدامر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ پرنس آف ویلز کا استقبال ایک تو ارشاد اذاجاء کم کریم قوم فاکرموہ کی تعمیل میں تھا۔دوسرے اس ملاقات کے پیچھے بھی تبلیغی جذ بہ کارفرما تھا۔حضور نے ۵۲۲۰۸- احمدیوں کے چندہ سے شہزادہ ویلز کو تبلیغ اسلام و احمدیت کی غرض سے ایک رسالہ تیار فرمایا تھا اور تحفہ شہزادہ ویلز ( A Present to the Prince of wales کا نام رکھا تھا۔