لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 462
462 وو ” جناب مرزا صاحب کو جو ملکہ اس مسئلہ اور اسی طرح اور بہت سے اہم مسائل پر غور فرمانے کا حاصل ہے وہ معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی ہے کیونکہ آپ مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کے مذہبی پیشوا ہیں اور آپ نے اپنی زندگی مذہبی معاملات پر غور وفکر کرنے کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔‘‘19 اس کے بعد حضرت خلیفہ امسیح تقریر کے لئے کھڑے ہوئے۔حضور نے پہلے تو مسلمان قوم کو خود حفاظتی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انہیں اسلامی نقطہ نگاہ سے ایسی تجاویز بتا ئیں کہ جن پر عمل کرنے سے وہ اپنی تنظیم کو مضبوط کر سکتی تھی۔بعد ازاں ہندو مسلم صلح کے لئے چند سنہری اصول بیان فرمائے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اوّل: سب مذاہب والے ایک دوسرے کے مذہبی پیشواؤں کا احترام کریں۔دوم : دوسرے مذاہب پر حملہ کرنے کی بجائے سب قو میں اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے پر اکتفا کر لیں۔اگر یہ بھی مشکل ہو تو سوم : ہم اس امر پر بھی اتفاق اور اتحاد کے لئے تیار ہیں کہ غیر مسلم یہ اقرار کریں کہ وہ ہمارے بزرگوں کو گالیاں نہیں دیں گے اور خدا اور اس کے رسول کے خلاف بدزبانی کا سلسلہ بند کر دیا جائے گا۔البتہ ایک دوسرے کے مسلمہ اصولوں کی بنا پر اعتراض کیا جا سکے گا۔چهارم : مذہبی لوگوں سے ان کا کوئی مسلمہ مذہبی اصل ترک کرنے کا مطالبہ نہ کیا جائے۔مثلاً ہندو مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ گائے کا گوشت کھانا چھوڑ دو۔مگر سوال یہ ہے کہ گائے اگر متبرک ہے تو ہندوؤں کے نزدیک ہے۔مسلمان اس کا گوشت کھا نا آخر کیوں چھوڑ دیں۔جب کہ ان کا مذہب اجازت دیتا ہے۔جم : ہر قوم دوسری قوم کے حقوق تسلیم کرے۔عجیب بات ہے کہ ہند و یہ تو کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو سوراج لے کر دیں گے مگر مسلمانوں کو ان کے چھوٹے چھوٹے حقوق دینے کے لئے تیار نہیں۔ششم : ہندو کہتے ہیں۔آل انڈیا نیشنل کانگرس کو سب قو میں تسلم کریں مگر حالت یہ