لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 373 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 373

373 چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے کام کی ساری زندگی ہی ایسے حالات میں گذری ہے جبکہ پاکستان کے شوریدہ پسند طبقہ نے آپ کے خلاف ملک میں سخت طوفان بے تمیزی بر پاکئے رکھا مگر آپ نے نہ تو ملک کی خدمت میں کمی آنے دی اور نہ ہی اپنی مذہبی حیثیت پر حرف آنے دیا۔۱۹۵۴ء میں سر بنکل راؤ کی جگہ بین الاقوامی عدالت عالیہ کے جج مقرر ہوئے اور چار سال کے عرصہ کے اندر ہی آپ کا انتخاب برائے نائب صدر عمل میں آیا۔اس طرح آپ نے تھوڑے ہی عرصہ میں قابل رشک مقام حاصل کر لیا۔بین الاقوامی عدالت کی حجی کا یہ دور کا میابی کے ساتھ گزار کر آپ نے ایک عرصہ تک اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی اپنے ذمہ لئے رکھی۔دو برس پیشتر جب آپ کونسل کی صدارت کیلئے منتخب ہوئے تو ”حقیقت‘ لکھنو نے لکھا: یہ واقعہ ہے کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں برصغیر ہند و پاکستان میں گنتی کے چند چوٹی کے مدبروں میں ہیں۔خصوصاً پاکستان کے موجودہ لیڈروں میں تو موصوف اپنی قانونی قابلیت سیاسی تدبر و تجربہ اور بین الاقوامی مسائل میں اپنی حیرت انگیز فراست و معاملہ فہمی کے اعتبار سے فرد واحد ہیں ہمیں یقین ہے کہ ہندوستان اور دوسرے چند ممالک کی مخالفت کے باوجود بھی اقوام متحدہ کی کونسل بالآخر بھاری اکثریت سے ظفر اللہ خاں ہی کو اپنا صدر منتخب کرے گی جو ہر اعتبار سے بہ مقابلہ دیگر امیدواروں کے قابل ترجیح ہیں۔چنانچہ یہ امر واقعہ ہے اور ساری دنیا اس پر شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کونسل کے صدارتی انتخاب میں آپ کو بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب کیا اور آپ نے دوران صدارت میں جو کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے ان کی بناء پر بعض بڑے مدبران کی زبان سے نکلا کہ کاش! ظفر اللہ خاں عمر بھر اس کونسل کے صدر رہیں۔اس کے بعد پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ بین الاقوامی عدالت کے جج کے طور پر کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو پہلے سے بھی زیادہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین آپ کی قومی خدمات کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اکثر و بیشتر غیر ملکوں میں احمدی مساجد کی بنیادیں رکھنے کا شرف حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ کے ارشاد کے ماتحت آپ ہی کو حاصل ہوا۔آپ نے مختلف ممالک میں بہت بلند پایہ تقاریر کے ذریعہ ایک دنیا کو اسلام اور احمدیت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی مراد ہے۔