لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 372 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 372

372 ان کی قانون دانی بلاغت و فصاحت اور نکتہ رسی کا ہر ممبر ملک قائل ہے۔جنرل اسمبلی اور اس کے ماتحت کمیٹیوں میں جب کبھی ظفر اللہ خاں تقریر کرتے ہیں تو شائقین اس کثرت سے جمع ہوتے ہیں کہ اکثر مرتبہ بیٹھنے کو جگہ نہیں ملتی۔بین الاقوامی مسائل کی موشگافیاں گذشتہ پانچ سال میں سر محمد ظفر اللہ خاں نے جس خوبی سے کی ہیں اس کی سب نے تعریف کی ہے۔گذشتہ سال جنرل اسمبلی کے پیرس والے اجلاس میں عراق اور ملک شام کے نمائندوں کے تعاون سے انہوں نے تخفیف اسلحہ کے مسئلے پر جو تقریر کی تھی اسے اقوام متحدہ کی بلند ترین تقریروں میں گنا جاتا ہے اور سیاست دانی کی اعلیٰ مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اسی تقریر کا نتیجہ تھا کہ بڑی طاقتوں کے نمائندے دس روز تک تخفیف اسلحہ پر تبادلہ خیالات کر سکے اور مختلف الخیال ملکوں کو ایک مرکز پر جمع ہونے کا موقعہ مل گیا جو اقوام متحدہ کے چارٹر کا سب سے ضروری مقصد ہے۔اس سے قبل مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے متعلق سر محمد ظفر اللہ خاں سیکورٹی کونسل اور جنرل اسمبلی میں معرکۃ الآراء تقریریں کر چکے ہیں۔لیبیا کے مستقبل سمالی لینڈ اور ار بیٹریا کی خود مختاری اور انڈونیشیا کی آزادی کے سلسلہ میں ان کی بار آور کوششیں ضرب المثل ہیں۔سر محمد ظفر اللہ خاں نے کچھ عرصہ ہوا، فرمایا تھا کہ جہاں کہیں آزادی کی جدوجہد کا اعلان ہوتا ہے پاکستان سب سے پہلے لبیک کہتا ہے۔اور یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ دنیا یہ لبیک سر ظفر اللہ خاں کی حق شناس آواز کے ذریعہ سنتی ہے۔۵۲ ۴۔معاصر ” انجام“ کراچی نے سمالی لینڈ کی خدمت کے متعلق ذیل کی خبر دی : " کراچی ۱۰۔فروری۔پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں نے ادارہ اقوام متحدہ میں سمالی لینڈ کے مسلمانوں کے مقصد آزادی کی حمایت میں جو معرکۃ الآراء تقریریں کی ہیں۔ان کا خلوص دل سے اعتراف کرتے ہوئے سمالی لینڈ کے ہزارہا مسلمانوں نے اپنے بچوں کے نام پاکستان کے وزیر خارجہ کے نام پر رکھے ہیں اور خود میرے نوزائیدہ بچے کا نام ”ظفر اللہ ہے۔انسان کے مرتبہ اور مقام کا پتہ اس وقت لگتا ہے جب کہ وہ مخالفت کے طوفانوں اور مصائب کی آندھیوں میں سے گزر رہا ہو۔مگر اس کے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہ آنے پائے۔حضرت