لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 289
289 بیعت کے بعد چونکہ میری طبیعت میں ایک روحانی انقلاب پیدا ہو گیا تھا اس واسطے جلد ہی میری والدہ نانی صاحبہ اور دوسرے رشتہ داروں کو معلوم ہو گیا کہ یہ احمدی ہو گیا ہے۔تھوڑا عرصہ انہوں نے میری مخالفت کی۔مگر چونکہ میں قرآن وحدیث سے کسی حد تک واقف تھا اس لئے مجھ پر ان کا کوئی داؤ نہ چل سکا بلکہ میری والدہ صاحبہ نے بھی بیعت کر لی اور ۱۹۰۷ ء میں بمقام لا ہور فوت ہوئیں۔فانا لله و انا اليه راجعون۔میں نے کئی مرتبہ تبلیغی جہاد کرتے ہوئے ماریں بھی کھائیں اور طعن و تشنیع کا نشانہ بھی بنا مگر حضرت اقدس کی ہتک مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی اور میں اسی وقت ترکی بہ ترکی جواب دیتا رہا۔حضور کی خدمت میں سال میں تین چار مرتبہ جایا کرتا تھا۔حضور ا کثر یہ فرمایا کرتے تھے کہ اکثر آیا کرو اور زیادہ دیر ٹھہرا کرو۔حضور میری چھوٹی عمر کا لحاظ کر کے بہت ہی شفقت سے پیش آیا کرتے تھے۔بیعت خلافت اولیٰ اور خلافت ثانیہ میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے فورا شامل ہو گیا اور ایک دن کا بھی تو قف نہیں کیا۔اپنے خاندانی حالات بیان کرتے ہوئے حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ ہمارے مورث اعلیٰ رعبداللہ شاہ صاحب مرحوم بخارا کی طرف سے ہندوستان آئے تھے۔یہ معلوم نہیں کہ سلطان محمود غزنوی کے ساتھ یا اس سے پہلے یا بعد میں۔پہلے گجرات کاٹھیا وار میں کسی جگہ فروکش ہوئے۔اور بعد میں جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے وہاں سے دہلی چلے گئے۔راستے میں ہمارے ایک بزرگ کا مزار ہے جن کے متعلق مشہور ہے کہ انہوں نے ایک شیر کے ساتھ مقابلہ کر کے اسے مار دیا تھا۔پھر اسی جگہ خود بھی فوت ہو گئے۔دہلی سے شہنشاہ جہانگیر کے وقت لاہور تشریف لائے۔شاہ وقت نے ان کے گزارہ کیلئے کچھ زمین دی۔یہ زمین آخر کا ر محکمہ ریلوے نے خرید لی۔انارکلی میں کچھ دکانیں بھی تھیں اور ایک احاطہ چونہ منڈی میں تھا۔مگر یہ ساری جائیداد فروخت ہوگئی۔اب ہمارے پاس قریباً چار مربعہ زمین موضع شاہ مسکین شموله موضع تھابل ضلع شیخو پورہ میں ہے وہاں پر ہمارا اپنا زمیندارہ ہے۔اپنی ملازمت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں محکمہ انہار میں ملازم تھا۔عہدہ ہیڈ کلر کی سے پنشن پر ہوں۔آدھی پنشن کا روپیہ چونکہ میں نے لے لیا تھا اس لئے اب نصف یعنی چالیس روپیہ پینشن مل رہی ہے۔