لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 208 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 208

208 حضور نے رسالہ الوصیت میں فرمایا ہے۔۳۲ میں 1906ء میں قانون کا پہلا امتحان یعنی ایف۔ای۔ایل(F۔E۔L) دے کر اس کے نتیجہ کا انتظار کر رہا تھا۔مئی یا جون میں مجھے لاہور سے یہ اطلاع آئی کہ میں قانونی امتحان میں کامیاب نہیں ہوا۔کیونکہ ایک آریہ ممتحن چونی لال بیرسٹر نے تمام مسلمان امیدواروں کو فیل کر دیا ہے اور ایک مسلمان بھی کامیاب نہیں ہوا۔اس اطلاع کے بعد جب میں ظہر کی نماز کے لئے مسجد مبارک میں گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف فرما تھے حضور اذان کے بعد جلد ہی مسجد میں تشریف لے آیا کرتے تھے اور میں بھی مسجد میں جا کر حضور کے قریب پہلی صف میں بیٹھ جایا کرتا تھا۔لیکن اس دن جب میرے فیل ہونے کی اطلاع آئی تو میں شرمندگی کی وجہ سے پچھلی صف میں سنتیں ادا کر کے بیٹھ گیا۔حضور نے مجھے اپنے قریب بلا لیا اور مجھ سے نتیجہ امتحان کے متعلق دریافت کیا۔میں نے لاہور سے آئی ہوئی اطلاع عرض کر دی۔تب حضور نے فرمایا کہ آپ کوئی فکر نہ کریں اور آئندہ سال پھر امتحان دے دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کا کامیاب کر دے گا۔دیکھو قادیان میں جتنے آریہ لوگ ہمارے سخت دشمن تھے وہ سب تباہ ہو گئے (الفاظ میں حضور کا اشارہ اس تصنیف کی طرف بھی تھا جو قادیان کے آریہ اور ہم کے نام سے شائع فرما چکے تھے ) اور حضور نے فرمایا کہ آریوں کو اللہ تعالیٰ ختم کر دے گا۔( یا شاید نابود فرمایا ) چونکہ حضور نے مجھے آئندہ سال امتحان میں کامیاب ہونے کی بشارت دے دی۔اس لئے میں نے تعلیم الاسلام سکول قادیان میں پھر ملازمت کر لی تھی اور امتحان کی تیاری کی طرف توجہ نہیں کر سکا۔امتحان سے تین ماہ پہلے لاہور جا کر تیاری شروع کی جسے مکمل تیاری نہیں کہہ سکتے مگر میں بفضلہ تعالیٰ کا میاب ہو گیا اور اس کامیابی کی اطلاع مجھے لاہور میں اس دن اور اس وقت ملی جب کہ حضرت اقدس وفات پا چکے تھے اور میں خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے مکان سے باہر دوسرے احباب جماعت کے ساتھ کھڑا افسوس کر رہا تھا“۔حضور کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے میں لاہور سے اپنے تایا صاحب مرحوم میاں چراغ دین صاحب کے ساتھ قادیان گیا تھا۔دو پہر کے قریب جب حضور کو تا یا صاحب کے