لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 209
209 آنے کی خبر ملی تو حضور نے ہمیں اپنے مکان کی پچھلی جانب بالا خانہ میں بلالیا اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔حضور نے اندر سے ٹھنڈا شربت منگوا کر ہمیں پلایا اور کچھ گفتگو کے بعد فرمایا کہ جلدی جلدی آنا چاہئیے۔اب وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔چنانچہ اس کے بعد ہمیں قادیان میں حضور کے ساتھ بیٹھنے کا موقع نہیں ملا اور جلد ہی حضور وفات پا گئے“۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی وفات سے ایک دن پہلے لاہور میں جب نماز عصر کے لئے خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں تشریف لائے تو لاہور کا ایک شخص ڈاکٹر محمد سعید نامی حضور سے ملاقات کرنے کے لئے آ گیا۔اس نے سلسلہ کے متعلق سوالات کرنے شروع کئے۔حضور نے فرمایا کہ ” میں اپنا کام ختم کر چکا ہوں۔میں نے سب کچھ اپنی کتابوں میں لکھ دیا ہے۔یہ فرما کر حضور نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔اس وقت مجھے تعجب ہوا تھا کہ حضور نے خلاف عادت سائل کو نہایت مختصر جواب دے کر یہ فرما دیا کہ میں اپنا کام ختم کر چکا ہوں۔لیکن دوسرے دن صبح کو آپ کا فرمانا پورا ہو گیا اور آپ وفات پا گئے۔انا لله و انا اليه راجعون۔اولاد: شریف احمد محمد لطیف انیس احمد عزیزہ بیگم رضیہ بیگم رفیقہ بیگم ذکیہ بیگم صفیه بیگم امینہ بیگم۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحب ولادت : ۲۔مارچ ۱۸۹۷ء حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں ۲۔مارچ ۱۸۹۷ء کو پیدا ہوئیں۔آپ کی ولادت سے قبل حضرت اقدس کو الہاما یہ خبر دی گئی تھی کہ تنشــافــی الحليلة “ کہ یہ دختر نیک اختر زیورات میں نشو و نما پائے گی۔پھر 1901ء میں آپ کے متعلق الہام ہوا نواب مبارکہ بیگم ان الہامات اور بعض دوسرے الہامات کی روشنی میں حضرت اقدس نے اپنے تینوں صاحبزادگان اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی آمین کے موقعہ پر آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔