تاریخ افکار اسلامی — Page 58
تاریخ افکا را سلامی ۵۸ مسح کر لینا کافی تھا۔ایک دفعہ دو صحابی سفر میں تھے نماز کا وقت ہو گیا اور پانی میسر نہیں تھا چنانچہ دونوں نے تمیم کر کے نماز پڑھ لی اور آگے سفر پر روانہ ہو گئے کچھ دیر کے بعد پانی مل گیا نماز کا وقت ابھی باقی تھا۔چنانچہ ایک نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی اور دوسرے نے کہا کہ جب ایک دفعہ نماز پڑھ لی ہے تو پھر کیا ضرورت ہے جب حضور کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے دونوں کے ہے جب نو اجتہاد کی تصویب فرمائی ہے۔ایک اور روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ نے عمرو بن العاص کو ایک مہم کا سر براہ بنا کر بھیجا۔عمر وجنبی ہو گئے۔سردی سخت تھی۔چنانچہ آپ نے تمیم کر کے اہل لشکر کو نماز پڑھائی۔حضور کی خدمت میں رپورٹ کی گئی تو آپ نے عمرو کو بلا کر پوچھا تو عمرو نے عرض کیا سردی سخت تھی اور میرے سامنے قرآن کریم کی یہ آیت تھی لَا تُقتلوا انفسکم سے آپ ہنس پڑے لیکن عمر کو کچھ نہ کہا۔اجتماعی اجتہاد کی بھی کئی مثالیں ملتی ہیں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر صحابہ کو بلا کر مشورہ کرتے اور بلا جھجک فیصلے کرتے اسی اجتماعی مشورہ سے انہوں نے حضور کی نیابت اور خلافت کا مسئلہ طے کیا اور مصحف امام " تیار کر وایا اور اس طرح ہر مشکل پر قابو پایا۔ہے رہی یہ بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں امت مسلمہ کی جو رہنمائی فرمائی ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حضور کی یہ رہنمائی عالم انسانیت کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے لیکن ہمیشہ کے لیے اس کی ہو بہو پا بندی ضروری نہیں یہ گروہ ذخیرہ احادیث کو مسلمانوں کی تاریخ کا ایک عمدہ مجموعہ تو مانتا ہے اس کی دینی اور شرعی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا لیکن امت مسلمہ کی اکثریت نے اس نظریہ کو مستر د کر دیا اور اسے گمراہی، غلط سوچ اور کفر قرار دیا۔ہے شریعت اور فقہ کے مآخذ ل چنانچہ علماء حق نے قانون اسلام اور شریعت ( تہذیب و تمدن ، اقتصاد اور معاشرت ) کی قَالَ الَّذِى لَمْ يَعدَ أَصَبْتَ السُّنَّةَ واجْزَ أَنكَ صَلوتُكَ وَ قَالَ لِلآخَرِ لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتين (ابو حنيفه صفحه ۱۷۰) ابو حنيفه من ۱۵۶،۱۴۸ وقريحا قد وجد مَن قالوا لا نقبل إلا ما جاء به نص القرآن وهؤلاء كفار بلا جدال لان السنة مبينة النساء : ٣٠ للدين كله ( مالک بن انس صفحه (۱۶۸ محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية صفحه ۲۷۹