تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 59 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 59

۵۹ تدوین کے لئے جن اصول وقواعد کو سامنے رکھا وہ مندرجہ ذیل تھے۔قرآن کریم ، سنت وحد بیث، اجماع اور ایسی رائے یا اجتہاد جو قیاس، استحسان، مصلحت، رفع حرج، سد ذرائع عرف، استصحاب با تعلِیلُ النَّص کے اصول پر مبنی ہو۔قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا قطعی اور یقینی کلام اور دنیا بھر کے لیے ایک معجزہ ہے اور تمام مسلمان اس کتاب مقدس کو ماخذ شریعت اور منبع ہدایت تسلیم کرتے ہیں اگر کوئی جزوی اختلاف ہو سکتا ہے تو وہ قرآن کریم کے معنی ومفہوم کے سمجھنے میں ہوسکتا ہے۔مثلاً کسی مصلحت کے تحت قرآن کریم میں ایک ایسا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے عربی زبان میں دو معنے ہیں اور کوئی قطعی قرینہ کسی ایک معنے کی تعیین کے لیے سامنے نہیں آیا اس وجہ سے ایک عالم نے اس لفظ کے ایک معنے لیے اور دوسرے نے دوسرے جیسے قرآن کریم کا ارشاد ہے وَالمُصطَلَّقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قروء لا یعنی جن عورتوں کو طلاق ملی وہ تین قروء اپنے آپ کو روکے رکھیں اور کسی اور کے ساتھ نکاح نہ کریں ( لفظ قروء قرء کی جمع ہے اور عربی زبان میں فارہ کے معنے حیض کے بھی ہیں اور ظہر کے بھی اس لیے کسی نے کہا کہ مطلقہ عورت تین حیض گزرنے تک کسی اور کے ساتھ نکاح نہ کرے غرض اس طرح کے لغوی اختلاف کی وجہ سے یا حقیقت و مجاز کے فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یا عام و خاص اور اسلوب کلام کے فرق کے لحاظ سے فروعی اختلاف کی کئی صورتیں سامنے آئیں۔اسی طرح تفسیر القرآن بالحدیث کی بنا پر بھی بعض اختلافی مسلک نمایاں ہوئے۔مثلاً امام شافعی اور امام احمد کا مسلک یہ ہے کہ حدیث خواہ متواتر ہو یا مشہور عزیز ہو یا غریب اگر معتبر راوی روایت کرتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں آیت کی یہ غیر کی ہے تو اسے تسلیم کرنا ہوگا اور ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم کا صحیح مفہوم وہی ہے جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔امام ابوحنیفہ اور بعض دوسرے علماء کہتے ہیں کہ حدیث ظنی الدلالۃ ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ راوی جو کچھ کہہ رہا ہو وہ بالکل ل اعجاز القرآن فى انه أصحُ لفظ في احسن نظم في التأليف وفيه أصح المعانی و آرقاها معجز بلفظه ونظمه وتركيب عباراته والفاظه۔۔۔۔۔۔۔۔۔اعجز الشعراء وليس بشعر واعجز الخطباء وليس بخطبة و معجز بأثره في النفوس الامام الشافعی صفحه ۹۵) سے مجاز کی مثال قرآن کریم کی یہ آیت وَثِيَابَكَ فَطَهِرْ یہاں تیاب کے معنے نفس اور ذات کے لئے گئے ہیں۔عرب کہتے ہیں۔فدا لک ثوبی ای نفسی فدی لک من اخي ثقة ازاری ای نفسی (الامام الشافعی صفحه ۱۰۵) البقرة : ٢٢٩