تاریخ افکار اسلامی — Page 38
تاریخ افکا را سلامی PA اس کے لئے زیادہ تر اجتماعی مشورہ کا طریق اختیار کرتے۔صحابہ کے بعد جن تابعین نے علمی خدمات سرانجام دیں ان میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے علاوہ مدینہ منورہ کے فقہاء سبعہ اور دوسرے علاقوں کے بعض سر بر آوردہ اصحاب علم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔مدینہ منورہ کے فقہائے سبعہ سے مرادمندرجہ ذیل کبار تا بعین ہیں۔ا حضرت سعید بن المسیب (متوفی ۹۳ھ) یہ حضرت عبد اللہ بن عمر کے شاگرد اور حضرت ابو ہریرہ کے داماد تھے۔بڑے مشہور محدث اور ابن شہاب زہری اور ربیعہ الرائے کے استاد مانے جاتے تھے۔-۲ حضرت ابو بکر بن عبید الله بن الحارث (متوفی ۹۴ھ) یہ حضرت عائشہ صدیقہ کے شاگرد تھے اور مانے ہوئے فقیہ تھے۔حضرت عروہ بن زبیر (متوفی ۹۴ھ) حضرت عائشہ کے بھانجے شاگر داور کو دیا لک تھے۔- حضرت قاسم بن محمد بن ابي بكر الصديق (متوفی ۱۰۸ھ) یہ حضرت عائشہ صدیقہ کے بھتیجے ، کو دیا لک اور شاگرد تھے۔بڑے محدث اور صائب الرائے فقیہ مانے جاتے تھے۔حضرت عمر بن عبد العزیز فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے بنوامیہ کی مخالفت اور ان کی طرف سے فساد کا ڈر نہ ہوتا تو میں اپنے بعد قاسم کو اپنا جانشین نامزد کرتا کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اس مقام کے اہل ہیں لے ۵۔حضرت عبید اللہ بن عبد الله بن عتبہ بن مسعود (متوفی ۹۹ھ) یہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن عباس کے شاگرد اور حضرت عمر بن عبد العزیز کے استاد تھے۔حضرت سلیمان بن سیار (متوفی (۱۰۰) حضرت میمونہ کے مولیٰ حضرت زید بن ثابت ،حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ کے شاگرد تھے۔امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ سے بھی شرف تلمذ حاصل تھا۔حضرت خارجہ بن زید بن ثابت مسوقى ١٠٠ھ) اپنے والد کی طرح بڑے پائے محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه۔صفحه ۲۲۰