تاریخ افکار اسلامی — Page 39
تاریخ افکا را سلامی ٣٩ کے فقیہ اور مجتہد تھے اپنے باپ سے ہی علم حاصل کیا تھا۔مسائل و رافت اور تقسیم اراضی کے کام کے ماہر اور مرجع الناس تھے اور اپنے والد کی طرح میدان علم کے شناور تھے۔ان فقہائے سبعہ کے علم کو ابن شہاب زہری، ربیعہ الرائے اور بعض اور علما ءمدینہ نے عام کیا۔ابن شہاب زہری اور ربیعہ الرائے تو حضرت امام مالک کے خاص استاد تھے۔ان کے علاوہ سالم بن عبد الله بن عمر ، یحیی بن سعید انصاری بھی مدینہ منورہ کے سر بر آوردہ فقہا میں شمار ہوتے تھے۔حدیث اور فقہ کے لحاظ سے مکہ میں عطاء بن ابی رباح، عراق اور کوفہ میں ابرا ہیم نخعی ، علقمہ مولیٰ ابن عباس ، حماد بن ابی سلیمان اور امام شعبی بڑے پائے کے محدث اور فقیہ سمجھے جاتے تھے۔حماد تو امام ابوحنیفہ کے خاص استاد تھے انہی سے آپ نے علم فقہ کی تربیت پائی تھی۔شام کے علاقہ میں امام اوزاعی۔بصرہ میں حضرت حسن بصری اور یمن میں طاؤس بن کیسان کا شمار بھی خاص علماء اور کبار تابعین میں ہوتا تھا۔تابعین کے زمانہ میں قرآن وسنت کے علاوہ اقوال صحابہ اورا جماع کو بھی بالعموم شرعی ماخذ کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا۔غرض ان بزرگوں کی کوششوں سے اسلامی تہذیب و تمدن اور علم وفقہ کی رفتار تیزی سے بڑھنے لگی۔موالی اور خدمت علم یہی وہ دور ہے جس میں تمدنی اور علمی لحاظ سے معاشرہ میں مسلم موالی کا اثر ورسوخ بھی بڑھا۔موالی سے مراد وہ نجمی عناصر تھے جو مختلف جنگوں میں قید ہوئے۔پھر آزاد اور مسلمان ہو کر عربوں میں رچ بس گئے یا کسی عرب کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے اور اس کی حمایت کے اندر آگئے یا کسی عرب قبیلہ سے عقد موالات باندھ کر باہمی مناصرت اور ایک دوسرے کی مدد کے معاہدہ میں آگئے اور اس طرح مسلم معاشرہ کا حصہ بن گئے۔اس دور میں عربوں کی اکثریت وسیع اسلامی مملکت کی حفاظت اور ملک میں امن و امان قائم کرنے کی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھی۔اس لئے علمی اور تدریسی خدمات کی طرف وہ بہت کم توجہ دے سکے۔اس کے بالمقابل ذہین موالی نے اس خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا اور دینی اور علمی جد وجہد کے خوب جوہر دکھائے۔اس وقت