تاریخ افکار اسلامی — Page 37
تاریخ افکار را سلامی ۳۷ معاشرت اور ثقافت۔تمدن اور تفقہ کا ارتقاء (مجہتدین دین ) عہد صحابہ میں عرب کے علاوہ فارس ، شام، فلسطین اور شمالی افریقہ کے بعض اہم حصے فتح ہو چکے تھے اور مسلمانوں نے ان علاقوں پر مضبوط کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔اس طرح جہاں مجاہدین اسلام مملکت کی وسعت اس کے استحکام اور اس میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے کوشاں تھے وہاں دوسری طرف صاحب علم صحابہ مملکت کے اند را سلامی علوم کی بنیا دوں کو وسیع اور مضبوط کرنے میں لگے ہوئے تھے اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ کے لئے کوشاں تھے۔چنانچہ جن صحابہ کے علمی اور ثقافتی کارناموں کو تاریخ نے محفوظ کیا ہے ان میں خلفاء اربعہ کے علاوہ حضرت زید بن ثابت ، حضرت عبد اللہ بن عمر ، حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابو موسیٰ اشعری کے علاوہ امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ صدیقہ ، حضرت ام سلمہ تفقہ اور تمدنی مسائل میں مجتہد کا درجہ رکھتے تھے۔دوسری طرف حضرت ابو ہریرہ ، حضرت ابوسعید الخدری اور حضرت جابر بن عبد اللہ وغیرہ صحابہ احادیث اور تاریخی روایات کو محفوظ کرنے میں بڑی شہرت کے مالک تھے۔صحابہ کی علمی اور فقہی بنیا د قرآن کریم اور سنت نبوی تھی اور جن مسائل کی تصریح ان کو قرآن و سنت میں نہ ملتی اُن کے حل کے لئے وہ مصلحت اُمہ کو سامنے رکھ کر اجتہاد اور رائے سے کام لیتے اور الصَّحَابِى كُلُّ مُسْلِمٍ رَأى النبي الله وطَالَتْ صُحبته النبي الله وَانتَقَلَ النَّبِي إِلَى الرَّفِيقِ الأعْلَى وَبِالْمَدِينَةِ مِنَ الصَّحَابَةِ كَثِيرُونَ نَحْوَ عَشَرَةُ آلاف۔وَالالْفَانِ الْآخَرَانِ تَفَرَّقَا فِي الْأَمْصَارِ وَقِيلَ الصَّحَابِى كُلُّ مُسْلِمٍ رَأَى النَّبِيُّ وَلَوْ سَاعَةَ أَوْ رَأَهُ النَّبِيُّ وَلَوْ صَبِيًّا وَ بِهَذَا التَّعْرِيفِ كَانَ عَدَدُهُمْ عِندَ وَفَاتِهِ مِائَةَ الفِ َواَرْبَعَةٌ وَعِشْرِينَ الفا مالک بن انس صفحه ۱۶۹ الاسلام والحضارة العربية جلد اوّل صفحه ۱۵۱، بحواله تاريخ ابى الفداء ابن عمر استاذ مدرسہ مدینہ، ابن عباس استاذ مدرسہ مکہ اور ابن مسعود استاذ مدرسہ کوفہ مانے گئے ہیں۔مالک بن انس صفحہ ۲۰۹