تاریخ افکار اسلامی — Page 34
تاریخ افکا را سلامی " يَدَ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ۔تو وہاں موجود کسی عربی کے ذہن میں یہ بات نہ آئی ہوگی کہ خدا کا اس طرح کا ہاتھ ہے جس طرح ایک انسان کا ہوتا ہے بلکہ سب نے یہی سمجھا اور درست سمجھا کہ بد الله “ سے اس جگہ مراد اس کی نصرت اور تائید ہے۔یہ مراد نہیں کہ خدا کا کوئی ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھا تھا یا محمد صلی اللہ علیہ سلم کے ہاتھ میں اللہ تعالی کا ہاتھ سما گیا تھا۔بہر حال ہر زبان میں جہاں حقیقت اور وضعی معنویت ہوتی ہے وہاں مجاز اور استعارہ کا مفہوم بھی مروج اور سہل الفہم ہوتا ہے اور اہل زبان دونوں انداز کو جانتے اور پہچانتے ہیں اور کسی دقت کا انہیں سامنا نہیں کرنا پڑتا۔پس سلفیہ کا یہ انداز فکر درست نہیں بلکہ زبان کے اصول نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔سلفیہ تو حید پر بھی بڑا زور دیتے ہیں اسی تشدد کی بناء پر وہ فوت شدہ بزرگان سے تو شہل کرنا۔ان کی قبروں کی زیارت کے لئے جانا اور وہاں جا کر اپنے لئے دعا کرنا ان کے خیال میں سب بدعات اور شرک سے قریب تر ہیں اس لئے ان سب باتوں سے بچنا چاہیے۔خلاصہ یہ کہ سلفیہ ا کثر کلامی مسائل میں اشاعرہ سے قریب تر ہیں جبکہ ماتریدیہ معتزلہ کے زیادہ قریب ہیں ہے صوفیاء # باطنی عرفان پر زور دینے والے اور اس کے لئے مختلف ریاضتیں کرنے والے صوفی کہلاتے ہیں جو صوفیاء اتباع سنت کو ہر حال میں ضروری سمجھتے ہیں وہ اہل السنت والجماعت میں ہی شمار ہوتے ہیں۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ خشک دلائل دل میں محبت الہی پیدا نہیں کر سکتے اس لئے ظاہر کے ساتھ باطن کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ شرعی اعمال بجالانے میں خلوص، بے ریائی ، خشوع و خضوع ، محبت ، تقرب اور توجہ الی اللہ کی ترپ سے متصف ہونا دین کی اصل غرض ہے اور اس مقام کے حصول کے لئے خاص انداز کا ذکر اور فکر، مجاہدہ اور ریا ضت تقتل اور انقطاع مختلف قسم کے اوراد اور وظائف کی ضرورت ہے اور یہ مقام کسی مقرب الہی کی شاگردی اور اس کی صحبت ل الفتح ا حوالہ جات کے لئے دیکھیں۔المذاهب الاسلاميه صفحه ۲۲۰ ۲۸۲۲ تلخيص - الفرق بين الفرق صفحه ۱۹۷ تا ۲۸۷ تلخيص - اعتقادات فرق المسلمين و المشركين صفحه ۷۴۲۶۶ تلخيص