تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 33 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 33

FF بیان کی ہیں یا اس کے رسول نے ان کی جو تشریح اور توضیح کی ہے ہمیں اسی حد تک محدود رہنا چاہئے۔یہ کوشش کرنا کہ ان کی تاویل کی جائے اور اس کے لئے مجاز و استعارہ کا سہارا لیا جائے بے راہ روی کے مترادف ہے کیونکہ سلف صالحین میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ خدا آسمان پر نہیں۔عرش پر نہیں اور نہ یہ کہا ہے کہ خدا نہ عالم ارضی میں داخل ہے اور نہ اس سے خارج ہے نہ متصل ہے نہ منفصل، نہ اس کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے اور نہ وہ نظر آسکتا ہے یہ سب تو جیہات بعد کی پیدا وارا اور بدعت ہیں۔دوسرے علماء اہل السنت نے کہا ہے کہ سلفیہ کا یہ انداز فکر خدا کی تقسیم کو مستلزم ہے کیونکہ جب اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے تو پھر وہ جسم ہوا۔اسی طرح یہ کہنا کہ خدا نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا اس لئے خدا کا منہ بھی ہے ، دانت بھی ہیں، جبڑے بھی ہیں ، آنکھیں بھی ہیں، ہاتھ اور انگلیاں بھی ہیں سینہ، ران، پنڈلی اور پاؤں بھی ہیں تو پھر تقسیم میں کون سی کمی رہ گئی۔بھلا ان باتوں کی کون سی نعلی دلیل موجود ہے کہ بید، ساق، وجہ اور غین وغیرہ کے الفاظ کا ظاہری مفہوم لیا جائے۔وہ یہ نہیں جانتے کہ کلمات کا ایک طرح ہی استعمال نہیں ہوتا۔مجاز اور استعارہ کے رنگ میں بھی ان کا استعمال متداول اور متبادر ہے۔اس سلسلہ میں امام غزالی لکھتے ہیں کہ ایک لفظ کے اصلی اور مجازی دونوں معنوں سے ایک عربی نژاد آشنا ہوتا ہے۔مثلاً یہ مل کا ایک معنی تو انسان کا عضو ہے جو گوشت پوست ، ہڈی ، رگ وریشہ وغیرہ اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے اس کا طول بھی ہوتا ہے اور عرض بھی تعمق بھی ہوتا ہے اور حجم بھی۔اس لحاظ سے یہ جسم ہے۔ید کے دوسرے معنی جس سے ہر عربی نژا د بلا کسی دقت اور ابہام کے واقف ہوتا ہے۔تسلط، غلبہ، طاقت، گرفت اور قبضہ کے ہیں مثلاً جب کہا جائے کہ السلمة في يد الامير تو اس جملہ کا مفہوم سمجھنے میں کسی عربی دان کو کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔یہاں تک کہ اگر امیر کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے بھی ہوں تب بھی یہ جملہ صحیح ہوگا اور یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ امیر کے تو ہاتھ ہی نہیں پھر شہر اس کے ہاتھ میں کیسے ہو سکتا ہے۔پس جب وضع اور مجاز کا اس طرح چولی دامن کا ساتھ ہے اور اسے ہر زبان دان جانتا ہے تو پھر یہی طرز فکر اسماء الہی کے بارہ میں کیونکر ممنوع اور بدعت ہو سکتی ہے مثلاً جب اللہ نے فرمایا