تاریخ افکار اسلامی — Page 35
تاریخ افکا را سلامی ۳۵ میں رہے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا لیکن دوسرے مسلک کے علماء خاص طور پر سلفیہ کے اس انداز پر یہ اعتراض ہے کہ معرفت الہی اور محبت و اخلاص میں صحابہ سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے۔انہوں نے تو اس قسم کے مجاہدے اور مراقبے نہیں کئے تھے اور ایسے اوراد و وظائف کو دستور زندگی نہیں بنایا تھا اس لئے یہ سب باتیں سلف صالحین کے طریق کے خلاف اور بدعت ہیں۔پس پیر پرستی کے ایسے تصورات سے بچنا چاہیے اور قرآن وسنت کو اپنا دستور زندگی بنانا چاہیے۔ا تا ہم موجودہ زمانہ کے صوفیاء اور تصوف کے سلسلے خاص طور پر برصغیر ہند و پاک کی خانقاہی زندگی کے لیل و نہار ایسی بدعات عجیبہ سے بھر پور ہیں جن کا انا پتا نہ سنت نبوی میں ملتا ہے اور نہ صحابہ کی زندگی میں نظر آتا ہے۔مثلاً قتل، چہلم اور عرس منانا ، گیارھویں اور نذرونیاز کی رسمیں بطور خاص مزارات کی زیارت کے لئے جانا ، ان کے عرس پر جانا ، اولیاء اللہ کی قبروں سے حاجات طلب کرنا ، میلا د پڑھنا، سلام پڑھتے ہوئے یہ سمجھ کر اچانک کھڑے ہو جانا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لے آئے ہیں، اسی طرح آنحضرت ﷺ کو حاضر وناظر اور عالم الغیب جاننا۔یہ سب بدعات اس زمانہ کے تصوف کا حصہ بن گئی ہیں اور ان رسموں کا نام عشق رسول ﷺ اور محبت الہی رکھ دیا گیا ہے۔معرفت الہی اور عرفان ازلی کی بھلا یہ کون سی راہ ہے جس کی طرف قرآن وسنت میں اشارہ کیا گیا ہو۔برصغیر پاک و ہند میں زیادہ تر تصوف کے مندرجہ ذیل سلسلے زیادہ مشہو را اور معروف ہیں۔چشتیہ، سہروردیہ قادریہ، نقشبندیہ اور قلندریہ۔چشتیہ کے مشہور صوفیاء جو بر صغیر پاک و ہند میں معروف ہیں یہ ہیں۔خواجہ فرید الدین شکر گنج پاک چینی ، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ، خواجہ علی الہجویری المعروف به دا تا گنج بخش" لاہوری ، خواجہ نظام الدین اولیا ء دہلوی، خواجہ قطب الدین بختیار کا کی خواجہ عثمان تونسوی، خواجہ غلام فرید چاچڑا نوائے۔سہروردیہ کے مشہور بزرگ خواجہ بہاء الدین زکریا ملتانی - خواجہ مخدوم جہانیاں جہاں گشت اُچ شریف ضلع ملتان۔