تاریخ افکار اسلامی — Page 27
تاریخ افکار را سلامی ۲۷ فَهُوَ الْمُهْتَدِى - - وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُّضِلٍ مَنْ يُضْرِيْلِ اللَّهُ فَلَا هادي له۔اللہ تعالیٰ کا ارادہ اور مشیت ہے۔وَمَا تَداءُ ونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ " فعال لما يُريد گناہ کبیرہ کا مرتکب دائمی جہنمی نہیں وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر دوزخ سے نکل آئے گا۔خدا چاہے تو گنہگار کو معاف کر دے اور چاہے تو نیک کو دوزخ میں ڈال دے وہ مختار و خالق ہے تا ہم اس کا رحم اور اس کا فضل اتنا وسیع ہے کہ اختیار رکھنے کے باوجود وہ نیک کو دوزخ میں نہیں ڈالے گا اور اسے جنت سے نہیں نکالے گا۔ان سب مذکورہ بالا مسلمات میں معتزلہ کو اختلاف ہے اور وہ ان نصوص کی تاویل کرتے ہیں۔٢ - مَاتُرِيدِيَه ما تريديه اہل السنت والجماعت کا وہ گروہ ہے جو کلامی مسائل میں امام ابو المعصو رمحمد بن محمود سمرقندی ما تریدی کی پیروی کرتا ہے۔امام موصوف سمرقند کے محلہ ماترید کے رہنے والے تھے اس لئے ما تریدی کے لقب سے مشہور ہوئے۔آپ ۳۳۳ ھ میں فوت ہوئے جبکہ امام اشعری کی وفات ۳۳۰ ھ میں ہوئی تھی۔اس لحاظ سے دونوں امام ہمعصر تھے۔آپ نصر بن بیٹی بھٹی کے شاگرد تھے جو اس زمانہ میں حنفیوں کے مشہور پیشوا تھے اس لئے امام ما تریہ ہلدی بھی حنفی المسلک تھے۔کہا جاتا ہے کہ امام ابو منصور ماتریدی حضرت امام ابو حنیفہ کے کلامی افکار کے شارح اور مفسر تھے آپ متعد دمرتبہ سمرقد سے بصرہ گئے تا کہ وہاں معتزلہ اور اشاعرہ سے مناظرہ کریں۔امام ابومنصور ما تریدی اپنی کتابوں میں بارہا را امام ابو حنیفہ کے نظریات کا حوالہ دیتے ہیں اور ان کے لئے منطقی اور عقلی دلائل ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے ہیں۔آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔مثلاً کتاب تأويل القرآن ، مأخذ الشرائع - المقالات في الكلام الرَّدُّ عَلَى الْقَرَامِطَةِ وغيره - الاعراف : ۱۷۹ - الزمر : ٣٨ ٣ الاعراف: ۱۸۷ الدهر : ٣١ الفرق بين الفرق صفر ۲۸۰۲۲۴۰ تاريخ المذاهب الاسلامية صفر ۲۲۰ بروج : ۱۷ مصنفہ محمد ابو زہرہ پروفیسر شریعت اسلامیہ لاء کالج قاہرہ یونیورسٹی ناشر دارالفکر العربی القاہر مصر۔