تاریخ افکار اسلامی — Page 26
تاریخ افکار را سلامی اشعری اس طرح تو کافر بھی کہہ سکتا ہے خدایا تجھے علم تھا کہ میں نے بڑے ہو برے کام کرتے ہیں اس لئے مجھے بچپن ہی میں کیوں نہ ماردیا کہ کم از کم دوزخ کے عذاب سے تو بچ جاتا۔جہاتی سے کچھ جواب نہ بن پڑا اور وہ خاموش ہو گیا۔اشاعرہ کی امتیازی خصوصیات خدا نے جس طرح اپنے آپ کو قرآن کریم اور احادیث میں ظاہر کیا ہے وہ اسی طرح ہے۔اس میں نہ کسی قسم کی تاویل مناسب ہے اور نہ مجاز اور استعارہ کا سہارا لینا درست ہے۔مثلاً۔خدا کا چا ہے۔وَيَبْقَى وَجْهُ رَبكَ ذُو الْجَلْلِ الْإِكْرَامِ۔خدا کے دو ہاتھ ہیں۔بل يدهُ مبْسُوطَتَنا لِمَا خَافَتُ يَدَى يَدَ اللَّهِ چہرہ I فَوْقَ أَيْدِيهِمْ خدا کی آنکھیں ہیں۔تجری بِأَعْيُنِنَا لِتَصْنَعَ عَلَى عَيْنِي ! خدا آسمان اولی پر نزول اجلال فرماتا ہے جیسا کہ حدیثوں میں وضاحت آئی ہے۔أَنْزَلَهُ ک اللہ تعالی علیم وخبیر ہے۔انزله يعنيه نباتى العليم الخبير خدا قادر مطلق ہے۔قُل هُوَ الْقَادِرُ هو أشد منهم قوة اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔كَلَّمَ اللهُ مُوسى تكليت - قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور وہ غیر مخلوق ہے۔افعال عباد اللہ تعالی کے مخلوق ہیں۔واللہ خلقكم وَمَا تَعْمَلُونَ " أم خُلِقوا مِنْ غَيْرِ شَن آمْ هُمُ الظَّلِقُونَ - خَلَقَكُمْ البتہ کب بندہ کا ہے۔لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُما خلق اور کسب میں کیا فرق ہے؟ یہ ایک راز ہے جس کی وضاحت بہت مشکل ہے۔اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔مَنْ يَهْدِ اللهُ الرحمن : ۲۸ - المائدة : ۶۵ 21: فتح: ۱۱ ۵ قمر : ۱۵ طه : ۴۰ کے النساء : ١٦٧ A :التحريم ۴ - الانعام: ۶۶ حم السجدة : ١٦ ال النساء : ۱۶۵ ۱۲ الصفت : ۹۷ الطور: ٣٦ ١٢ البقرة : ١٤٢