تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 394 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 394

تاریخ افکا را سلامی ۳۹۴ اگر یہ مدعی ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے دعوئی میں سچا نہ ہوتا اور مجھ پر افترا کرتے ہوئے میری طرف وہ باتیں منسوب کرتا جو میں نے نہیں کہی ہیں تو میں اس کی رگ جان کاٹ دیتا ملے۔پس یہ دلیل صداقت آپ کے غلام نے بھی اپنی سچائی کے لئے پیش کی یعنی جس طرح آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے دعوی ماموریت کے بعد ۲۳ سال تک کامیاب و کامران زندگی بسر کی۔شاندار فتوحات حاصل کیں۔دشمنوں کو زیر کیا اور کوئی مخالف آپ کا بال بیکا نہ کر سکا اسی طرح آپ کے غلام مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دھومی کے بعد تمہیں سال سے زیادہ عرصہ تک عظیم کارناموں کی توفیق پائی اور اپنا کام مکمل کر کے ۱۹۰۸ء میں کامیاب و کامران اس دنیا سے رخصت ہوئے۔“ آپ کے اپنے دعوئی میں سچا ہونے کی چھٹی دلیل یہ ہے کہ یہ مسلمہ اصول ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور اس کی افادیت اُس کے شیر میں ثمرات کے لحاظ سے مانی جاتی ہے سو اسی اصول کے مطابق جب ہم آپ کے کام کے نتائج کو دیکھتے ہیں اور آپ کے کارناموں کو پر کھتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے دینی اور تعلیمی دائرہ میں ایسے عظیم النتائج شاندار کام کئے جن کی افادیت اور عظمت کو دوست و دشمن نے تسلیم کیا۔مثلاً الف۔آپ کے بڑے کارناموں میں سے ایک بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے دنیا کو قرآنی معارف و حقائق کی طرف متوجہ کیا اور تفسیر قرآن کا ایسا بلند معیار پیش فرمایا کہ جس کی مثال سابقہ تفاسیر میں نہیں ملتی۔آپ کی کتب براہین احمدیہ، اسلامی اصول کی فلاسفی اور آئینہ کمالات اسلام و غیرہ کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کر دے گا۔آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت بھی منسوخ نہیں ہوئی اس سلسلہ میں آپ نے وہ اصول بھی واضح فرمائے جن کی بنا پر یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ساری قرآنی آیات اپنے موقع ومحل کے مطابق ہیں اور کسی آیت کے منسوخ ہونے کا دعوی نہیں کیا جا سکتا۔الحاقة : ۴۵ تا ۴۸۔ان آیات کا ایک حصہ یہ ہے وَلَوْ تَقُولَ عَلَینا بَعضَ الْأَقَاوِيْلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ اقْطَعْنَا مِهُ الْوَيين