تاریخ افکار اسلامی — Page 336
تاریخ افکارا سلامی FFY سورۃ الحجر کی آیات ۱۲ تا ۱۶ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا :- سورۃ الحجر سے یہ چند آیات جو میں نے آج کے جمعہ کے لیے منتخب کی ہیں ان کا ترجمہ یہ ہے کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ اُن کے پاس کوئی رسول آئے اور وہ اُس سے استہزاء کا سلوک نہ کریں یا جب کبھی بھی اُن کے پاس کوئی رسول آتا ہے۔وہ اس کے سوا کچھ نہیں کرتے کہ اُس سے تمسخر کرتے ہیں اور استہزاء کا سلوک کرتے ہیں۔كذلِكَ تَلَكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ اسی طرح ہم مجرموں بهین کے دل میں یہ عادت داخل کر دیتے ہیں یعنی اُن کے مزاج میں، اُن کی عادات میں فطرت ثانیہ کی طرح یہ کبھی داخل ہو جاتی ہے کہ جب بھی خدا کی طرف سے کوئی آئے اُس کے ساتھ استہزاء کا سلوک کرنا ہے لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ وَقَدْ خَلَتْ سنة الأولِينَ وہ ایمان نہیں لاتے۔بھیجے ہوئے پر ایمان نہیں لاتے اور اُن کے لیے اور اس سے پہلے لوگوں کی سنت اور اُن کی تاریخ ایک نمونہ بن جاتی ہے یعنی اُس نمونے کے پیچھے چلنے والے ہیں۔گویا وہی لوگ ہیں جو گزشتہ زمانوں میں اسی قسم کی حرکتیں کر چکے ہیں اور اب دوبارہ ظاہر ہوئے ہیں۔تو اپنے سے پہلوں کی سنت پر عمل کرنے والے یہ لوگ ہیں اور اُس کے مقابل پر خدا کی بھی ایک سات ہے۔اُس کا بھی یہیں ذکر ہے فرما یا قَدْ خَلَتْ سُنةُ الأَوَّلِينَ حالانکہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس سے پہلے اسی قسم کے لوگوں کے ساتھ خدا کی کیا سنت جاری ہوئی تھی اور ان دونوں سنتوں میں آپ کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔نہ ان بد کر دارلوگوں کی سنت میں تبدیلی دیکھیں گے جن کو خدا تعالیٰ نے اُن کے جرموں کی وجہ سے ایک غلط طرز عمل اختیار کرنے پر پابند فرما دیا ہے۔اُن کے دلوں میں جاگزین کر دی ہے یہ بات کہ تم اس لائق نہیں ہو کہ بچوں کو قبول کرو اس لیے تم جس حد تک تم سے ممکن ہے کج روی اختیار کرو۔دوسری طرف سقة الاولین سے مراد وہ سنت ہے جو اؤلین کے بارے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی رہی ہے۔جو اُن کے ساتھ خدا کا سلوک ہوتا رہا ہے۔وہ اُن کی سنت بن گیا یعنی پہلے انکار کی سنت اور پھر ہلاکت اور