تاریخ افکار اسلامی — Page 337
تاریخ افکا را سلامی ٣٣٧ تباہی کی سنت وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاء فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کے اوپر اگر ہم آسمان سے دروازے بھی کھول لیں۔ایسے دروازے جن پر یہ چڑھ سکیں اور خود آسمان کی بلندیوں پر جا کر سچائی کا مشاہدہ کریں اور نشانات کو دیکھ لیں قالُوا إِنَّمَا سُكْرَتْ اَبْصَارُ نا وہ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد یہ کہیں گے کہ ہماری آنکھیں مدہوش ہو گئی ہیں، ہماری آنکھوں کو نشہ چڑھ گیا ہے بَلْ نَحْنُ قَوْم مسحورُونَ ہم تو ایسی قوم ہیں جس پر جادو کر دیا گیا ہے۔ان آیات میں دو مضامین بیان ہوئے ہیں۔اگر چہ تسلسل ہے مضمون کا لیکن اس مضمون کو دوحصوں میں بیان فرمایا گیا ہے۔پہلا یہ کہ خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے، خدا تعالی کی یہ تقدیر ہے کہ بعض لوگ لازماً اس کے بندوں سے اُس کے بھیجے ہوؤں سے استہزاء کا سلوک کرتے ہیں اور اُن کا یہ رویہ اُن کا مقدر بنا دیا جاتا ہے۔ان کے دلوں میں یہ بات داخل کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اُس سے ٹل نہیں سکتے ، اُن کے مقدر میں یہ بات لکھی جاتی ہے۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ خود انبیاء کے منکرین کو استہزاء کا طریق سکھاتا ہے اور اُن کے دلوں میں یہ بات جما دیتا ہے نقش کر دیتا ہے کہ تمہیں بہر حال میرے بھیجے ہوؤں سے مذاق کرنا ہے اور استہزاء اور تمسخر کا سلوک کرنا ہے تو اُن کا پھر کیا قصور۔لیکن اس سوال کا جواب اسی آیت میں اس کے آخری حصے میں بیان فرما دیا گیا فیت قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ہم یہ نصیبہ مجرموں کا بناتے ہیں۔اس سے ایک بات خوب کھل گئی کہ جب خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو بھیجا کرتا ہے بنی نوع انسان کی اصلاح کے لیے تو دراصل وہ قوم مجموعی طور پر بحیثیت قوم مجرم ہو چکی ہوتی ہے۔اُس میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں، استثناء بھی موجود ہوتے ہیں لیکن ایک بھاری تعداد اُس قوم میں جرم کرنے والوں کی ہوتی ہے۔پس در اصل جرم کی سزا میں صداقت سے محرومی بھی شامل ہے۔پس خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہوتا کہ ان لوگوں کو صداقت پہچاننے سے محروم کر دیا جاتا ہے۔فرمایا وہ مجرم ہیں اور اس قسم کے مجرم ہیں کہ اُس جرم سے باز آنے والے نہیں۔