تاریخ افکار اسلامی — Page 335
تاریخ افکا را سلامی ۳۳۵ حضرت مسیح علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا ذکر قرآن کریم کی سورۃ الصف میں اس طرح ہے۔وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يُبنى إسراءيل إنّى رَسُولُ اللهِ إلَيْكُمُ مُصَدِقَا لِمَا بَينَ يَدَى مِنَ الثورية و مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ ياتي من بَعْدِي اسْمَةَ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُّبِين اور یاد کرو جب عیسی بن مریم نے اپنی قوم سے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں تو رات میں جو باتیں میرے آنے سے پہلے بیان ہو چکی ہیں ان کو میں پورا کرنے والا ہوں اور ایک ایسے رسول کی بھی خبر دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔پھر جب وہ رسول دلائل لے کر آ گیا تو وہ (بنی اسرائیل ) کہنے لگے۔یہ تو کھلا کھلا جادو اور فریب ہے۔بائبل کی یہ پیشگوئیاں کس قدر واضح ہیں لیکن ہوا وہی جو ہمیشہ ہوتا چلا آیا ہے کیونکہ جب وہ موعو دا قوام عالم آیا اور ساری علامات کے ساتھ آیا تو دنیا کے بڑے حصہ بالخصوص اہل کتاب نے اُس کا صاف انکار کر دیا حالانکہ اُن کی اپنی کتابیں اس آنے والے کی علامات سے بھری پڑی تھیں اور وہ اس کی آمد کے منتظر بھی تھے مگر اپنی غلط سوچ کی وجہ سے وہ اس کو نہ پہچان سکے اور ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے تاہم جس نے آنا تھا وہ تو آگیا اور بڑی شان سے آیا اور منکر آج تک اُس کا انتظار کر رہے ہیں بلکہ اب تو انتظار کرتے کرتے بڑی حد تک مایوس ہو چکے ہیں اور طرح طرح کی تا و پیلات اور تحریفات کے سہارے گریز کی راہیں تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ فرمودہ ۱۲ را گست ۱۹۸۸ء میں بقیہ حاشیہ۔(۲) بائبل کی ان پیشگوئیوں کی تشریح اور مزید پیشگوئیوں کی تفصیل کے لئے دیکھیں تفسیر کبیر جلد اصفحہ ۳۷۰ زیر ایت مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ (البقرة : ۴۲) الصف: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونام میں ایک " محمد اور دوسرا احمد اگر چہ آپ کا نام محمد زیادہ مشہور ہے اور کلمہ میں بھی یہی نام استعمال ہوا ہے لیکن بمطابق قرآن کریم حضرت مسیح علیہ السلام نے آپ کا دوسرا نام احمد " لیا ہے جس میں اہل فکر و دانش کے لئے کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرْ؟