تاریخ افکار اسلامی — Page 323
تاریخ افکا را سلامی FFF رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مافوق البشر طاقتوں کے مالک ہیں۔آپ نور محض ہیں۔آپ نورسے پیدا ہوئے جبکہ دوسرے لوگ مٹی سے پیدا ہوئے۔آپ کا سایہ نہیں تھا۔آپ کے پسینہ میں عطر کی سی خوشبو تھی۔آپ کی نظیر ممکن نہیں۔آپ عالم الغیب ہیں۔خدا تعالیٰ کے علم اور آپ کے علم میں صرف اتنافرق ہے کہ خدا کا علم ذاتی ہے اور آپ کا علم خدا کا عطا کردہ، ورنہ کمیت و کیفیت کے لحاظ سے دونوں کے علم میں کوئی فرق نہیں۔آپ حاضر وناظر ہیں۔سب جگہ موجود اور سب کچھ دیکھ رہے ہیں آپ لوگوں کی پکار کو سنتے ہیں اور ان کی مدد کو پہنچتے ہیں۔میلاد کی مجالس میں جب درود و سلام پڑھا جاتا ہے تو آپ خصوصیت کے ساتھ اس مجلس میں رونق افروز ہونے کے لئے تشریف لے آتے ہیں اس لئے آپ کی پیشوائی اور احترام کے لئے سب حاضرین مجلس کو کھڑے ہو جانا چاہیے۔آپ فوت نہیں ہوئے۔آپ کے فوت ہو جانے کے صرف اسی قدر معنے ہیں کہ آپ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں ورنہ حیات جسمانی کے لحاظ سے آپ پہلے کی طرح زندہ ہیں۔بارہ ربیع الاول کو عید میلا داور ستائیں رجب المرجب کو معراج شریف کی تقریبات بڑی دھوم دھام سے منائی جاتی ہیں۔اسی طرح دوسرے مشہور اولیاء اللہ کے محرس بھی بڑے زورو شور سے منائے جاتے ہیں۔اولیاء کی کرامات بے حد و حساب ہیں۔فوت اعظم حضرت سید عبد القادر جیلانی " بڑی غوث پہنچ والے بزرگ ہیں۔وہ خدا سے سب کچھ منوا سکتے ہیں۔يَا شَيْخُ عَبْدَ الْقَادِرُ جِيَّلا نِي شَيْئًا لِلَّهِ کے ورد سے سب حاجتیں پوری ہو جاتی ہیں۔آپ کی گیارھویں دینے میں بڑی ہر کات مضمر ہیں۔دوسرے بزرگ بھی بڑی طاقتوں کے مالک ہوتے ہیں۔وہ بے اولادوں کو او لا د عطا کرتے ہیں۔بے وسیلوں کا وسیلہ ہیں۔بے روزگاروں کے کارساز اور ان کے حاجت روا ہیں۔اس لئے ان کی چوکھٹ پر حاضری دیتا، ان کے مزارات پر سلام کے لئے جانا ، ان کو پکارنا ، ان کے وسیلہ سے دُعائیں کرنا ، اُن کے مزارات پر چلہ کشی کرنا یہ سب کام وصال الہی کا ذریعہ اور نجات ابدی کی کلید ہیں۔اسی طرح نماز میں تصور شیخ، روحانی ترقی اور قبولیت عبادت کا باعث ہے یا قبر پر سجدۂ تعظیمی میں کوئی حرج نہیں اور نہ یہ شرک ہے۔اسی عقیدہ کے رد عمل کے طور پر بعض دیوبندی علماء یہاں تک کہہ گئے کہ نماز میں گدھے کا تصور مفسد نماز نہیں لیکن کسی پیر یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تصور سے نماز فاسد ہو جائے گی کیونکہ نماز میں تعظیم غیر مفسد صلوٰۃ ہے۔