تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 322 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 322

تاریخ افکا را سلامی بریلوی مسلک ۳۳۳ جہاں تک عوامی تو ہم پرستی اور اندھی عقیدت کا تعلق ہے یہ مرض بہت پرانا ہے۔بت پرستی اسی تو ہم پرستی کی شاخ ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی نبی نے خدا کی طرف سے مبعوث ہونے کا دعوی کیا عوام کی طرف سے ہمیشہ مخالفت کا یہ انداز سامنے آیا کہ ہماری طرح کے ایک انسان کو یہ مقام کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔نبی کو تو ایک مافوق البشر آسمانی ہستی ہونا چاہیے جس کی طاقتیں لامحدود ہوں۔پھر آہستہ آہستہ اس نبی کی صداقت کھلتی جاتی ہے۔اُس کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔اُس کا تقدس دلوں میں گھر کرتا چلا جاتا ہے اور پھر ایک زمانہ گزرنے کے بعد اسی نبی کے ماننے والے عوام جسے شروع میں ایک عام انسان سمجھ کر رو کر دیا گیا تھا اُسے مافوق البشر طاقتوں کا مالک سمجھنے لگتے ہیں اور اُن میں وہی جاہلانہ خیالات سرایت کر جاتے ہیں اور وہ اپنے اس نبی کے بارہ میں لا ہوتی تصورات کی بھول بھلیوں میں پھنس کر رہ جاتے ہیں اور سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کا یہ نبی الہی طاقتوں کا مالک ہے۔وہ خدا سے سب کچھ منوا لینے کا اختیار رکھتا ہے۔روحانی تنزل تہذہبی گراوٹ اور سیاسی زوال اور عملی تعامل کے بعد جبکہ قوائے عملیہ کمزور پڑ جاتے ہیں اور تن آسانی اور تمناؤں کی بیماری قبضہ جمالیتی ہے تو عوام تو عوام علماء کہلانے والے بھی انہی جاہلانہ لاہوتی تصورات میں کھو جاتے ہیں، چنانچہ بعض مفاد پرست دینی رہنماؤں نے اس صورت حال سے خوب فائدہ اُٹھایا اور مسلم عوام کے لئے ایسے جاہلانہ خیالات کو دین کا حصہ بنا دیا جن کا کتاب وسنت میں نشان تک نہیں ملتا۔اس طرح تو ہم پرستی اور اندھی عقیدت نے عالمگیر وبا کی صورت اختیار کرلی اور ہر علاقہ کے مسلم عوام الا ماشاء اللہ اس وہی مرض کے شکار ہو گئے۔بر صغیر ہند و پاک میں ان غیر اسلامی جاہلانہ تصورات نے بریلی کے ایک بزرگ مولانا سید احمد رضا خان صاحب (ولادت ۱۸۵۶ء) کے ذریعہ خوب فروغ پایا۔اسی وجہ سے ان علاقوں میں اس قسم کا مسلک رکھنے والے عوام پر میلوی کے نام سے مشہور ہیں اور بر صغیر کے خانقاہی سلسلے بھی زیادہ تر انہی نظریات سے منسلک ہو گئے ہیں اور سواد اعظم یعنی سینیوں کی غالب اکثریت کی قیادت کے دعوے دار بن کر سامنے آئے ہیں۔بہر حال بریلوی علماء اور خانقاہی صوفیا ء ایک عرصہ سے مندرجہ ذیل عقائد و رسوم کی نشر و اشاعت میں سرگرم عمل ہیں۔33