تاریخ افکار اسلامی — Page 124
تاریخ افکار را سلامی ۱۲۴ حضرت امام ابو حنیفہ بہترین ہمسایہ اور اصلاح کا بڑا حسین ذوق رکھتے تھے۔آپ کا ایک ہمسایہ آوارہ مزاج، شرابی اور ہنگامہ پرور تھا۔رات اس کے ہاں اس کے شرابی دوست جمع ہوتے رقص و سرود ، شراب و کباب کی محفل جمتی خوب ہنگامہ اور شور شرابہ ہوتا۔امام صاحب کے لیے یہ صورت حال بڑی بے آرامی اور تکلیف کا موجب تھی لیکن ہمسایہ سے بہتر سلوک کی ہدایت کے پیش نظر آپ نے اس کے خلاف شکایت کرنا مناسب نہ سمجھا۔ایک رات ادھر سے کو تو ال شہر کا گزر ہوا اس نے جو ہنگامہ اور شور کی آواز سنی تو اندر جا کر حالات معلوم کئے اور سب کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔دوسرے دن امام صاحب کو پتہ چلا کہ ان کا ہمسایہ گرفتار ہو گیا ہے تو آپ والی ء شہر کے پاس گئے اور ہمسایہ کی نیک چلنی کی ضمانت پیش کی اور اسے رہا کرا کر ساتھ لے آئے اور کہا تم شعر پڑھا کرتے تھے کہ ہمسایہ ایسا ہونا چاہیے جو وقت پر مدد کر سکے سو تم نے مجھے کیسا ہمسایہ پایا۔اس ہمسایہ کے گھر سے اکثر یہ شعر گنگنانے کی آواز آتی رہتی تھی۔أَضَاعُونِي وَأَيَّ فَى أَضَاعُوا يوم كريهة ويدَادِ تَغْرِ آپ نے اس ہمسایہ کو رہا کرانے کے بعد از راہ تلطف فرمایا: هَل أَضَعْنَاكَ ؟ امام صاحب کے اس سلوک سے وہ اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے تمام شرارتوں سے توبہ کرلی اور امن پسند نیک اور بڑی شریفانہ زندگی بسر کرنے لگا لے امام ابو حنیفہ بڑے حوصلہ مند اور دانا مصلح تھے۔دوسرے کے سخت سے سخت الفاظ اور درشت کلامی کا جواب ایسے طریق سے دیتے کہ وہ شرمندہ بھی ہو جائے اور اپنی اصلاح بھی کرلے۔بعض اوقات فقہی مسلک میں اختلاف کی وجہ سے دوسرے علماء آپ کے بارہ میں سخت الفاظ استعمال کرتے اور ان کے جاہل پیر و مخالفت کے جوش میں انتہا کو پہنچ جاتے لیکن سب آپ کی قوت برداشت اور حوصلہ دیکھ کر اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو جاتے۔ایک دفعہ ایک شخص نے آپ کو ابوحنیفه صفحه ۱۸۰۱۷