تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 125 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 125

۱۲۵ بدعتی اور زندیق کہا آپ نے جوا با فرمایا اللہ تعالی آپ کو معاف کرے امیرے اندر وہ بات نہیں جس کا اظہار آپ کر رہے ہیں۔جب سے میں ایمان لایا ہوں اور اللہ کی معرفت کی نعمت مجھے ملی ہے صرف اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں دوسرے کو نہ کارساز سمجھتا ہوں اور نہ اسے خدا کا درجہ دیتا ہوں۔کیا زندیق ایسے ہی ہوا کرتے ہیں یہ جواب سن کر وہ شخص شرمندہ ہوا اور معافی مانگنے لگا۔آپ نے فرمایا جو شخص ان جانے میں کوئی غلطی کرتا ہے تو تو بہ پر اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتے ہیں لے ایک دفعہ امام ابو حنیفہ مسجد میں بیٹھے تھے ایک شخص جو کسی مخالف عالم کا عقیدت مند تھا آیا اور آپ کو کوسنے لگا۔اس کی گالی گلوچ پر آپ خاموش رہے وہ شخص اور تیز ہو گیا آپ اٹھ کر جانے لگے وہ ہوگی تو آپ کے پیچھے پیچھے ہولیا اور برا بھلا کہتا چلا گیا۔آپ گھر کے دروازے پر پہنچے تو مڑکر اس شخص سے کہا یہ میرا گھر ہے۔اب مجھے اندر جاتا ہے اگر کچھ کسر رہ گئی ہو تو نکال لو یہ نہ کہنا کہ ابھی حسرت بھی حسرت باقی تھی وہ شخص یہ سن کر سخت شرمندہ ہوا اور اپنی حرکت سے تو بہ کی ہے بنو امیہ کے زمانہ میں کوفہ کا والی ابن ہبیرہ اور بنو عباس کے دوسرے خلیفہ ابو جعفر منصور نے مسلسل کوشش کی کہ آپ قضاء کا عہدہ قبول کر لیں لیکن آپ کو یہ منظور نہ تھا۔دونوں نے اپنے اپنے زمانہ میں سختی کی ، کوڑے لگوائے قید کیا، آپ نے سب کچھ بر داشت کیا، لیکن اپنے ضمیر کے خلاف اقدام پر راضی نہ ہوئے۔ایک دفعہ آپ کی والدہ نے گھبرا کر کہا بیٹا اس علم سے آپ کو کیا ملا مصیبتیں اور کوڑے۔آپ نے ماں سے عرض کیا۔" يَا أَمَّاهُ يُرِيدُونَنِي عَلَى الدُّنْيَا وَإِنِّي أَرِيدُ الْآخِرَةَ وَإِنِّي أَخْبَارُ عَذَابَهُمْ عَلَى عَذَابِ اللهِ۔“ اے ماں یہ لوگ دنیا پیش کرتے ہیں۔میں آخرت چاہتا ہوں ان کے دکھوں کو سہتا ہوں تا کہ اللہ کے عذاب سے بچ جاؤں کے حضرت امام ابو حنیفہ بڑے متواضع مزاج اور تقویٰ شعار بزرگ تھے۔ایک دفعہ حاکم شہر کے پاس علماء جمع تھے۔کسی مسئلہ کے بارہ میں بحث چلی۔ہر ایک نے جواب دیا امام صاحب نے بھی اپنی رائے دی۔ان میں ایک عالم حسن بن عمارہ بھی تھے انہوں نے جب رائے دی تو امام صاحب ابو حنيفه صفحه ۵۶ و محاضرات صفحه ۱۵۷ ابوحنیفه صفحه ۲۱ کے ابو حنيفه ابو حنیفه ۲۲