تاریخ افکار اسلامی — Page 103
تاریخ افکا را سلامی ١٠٣ حضرت عمر نے یہ روایت سن کر بے انتہا خوشی کا اظہار فرمایا۔لے ۹۔نماز با جماعت ہو رہی ہے قریب ہی ایک شخص ڈوبنے لگا ہے یا گھر کو آگ لگ گئی ہے تو نماز توڑ کر ڈوبنے والے کو بچانا اور آگ بجھانا ضروری ہے کیونکہ مصلحت کا یہی تقاضا ہے کہ ایک وا جب کو دوسرے واجب پر ترجیح دی جائے ہے ۱۰۔جس سودے میں ”عرر ، یعنی نقصان اور جھگڑا اٹھ کھڑے ہونے کا امکان ہو وہ سودا منع ہے لیکن اگر اسے مبہم یعنی نقصان یا نفع کے احتمال والے طریق تجارت کا رواج ہو یا لوگ ایسے طریق لین دین کے ضرورت مند ہوں تو غور کے اندیشے کو نظر انداز کر کے اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیا جا سکتا ہے کیونکہ احتمالی غرر کے مقابلہ میں پبلک ضرورت یا عرف کی اہمیت زیادہ ہے کہ نفع و نقصان کا احتمال تو کم و بیش ہر تجارت میں ہوتا ہی ہے اور لوگ اس کے عادی ہوتے ہیں۔اسی اصول کی بنا پر بَيْعِ سَلَم مَزارعت اجازہ اور باغ ٹھیکہ پر دینے کی اجازت دی گئی ہے۔نابالغ بچے کھیل کھیل میں لڑ پڑیں اور کوئی لڑ کا قتل ہو جائے تو نا بالغ بچوں کی گواہی درست ہوگی۔مصالحہ مرسلہ کے اصول کی بنا پر امام مالک نے اس کا فتوی دیا ہے۔بنا دیا۔-۱۲۔اصول استصلاح کی بنا پر فضیلی اس بات کو جائز سمجھتے ہیں کہ اگر کسی حادثہ کی وجہ سے لوگ بے گھر ہوجائیں اور ان کے ٹھہرانے کی کوئی مناسب جگہ نہ ہو تو حکومت کو اختیار ہے کہ دوسرے لوگوں کے گھروں میں ان کو ٹھہرائے خواہ وہ اس کے لیے راضی ہوں یا نہ ہوں گے غرض تلاش اور جستجو سے " مصالح مرسلہ کی بنا پر استنباط اور استدلال کی کئی مثالیں مل سکتی ہیں اور فقہاء کی ایک بھاری تعدا د امام مالک کے اس مسلک کی مؤید ہے۔امام مالک اور امام احمد کے نزدیک اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ مصلحت ثابتہ کی بنا پر خبر واحد کو ترک کر دیا جائے چنانچہ امام مالک کے نزدیک یہ روایت درست نہیں کہ میت کی طرف سے کوئی دوسرا روزے رکھ سکتا ہے یا حج کر سکتا ہے کیونکہ عبادات میں قائمقامی اصولاً تخلط ہے۔✓ ا بخاری کتاب الطب باب ما يذكر في الطاعون - مالک بن انس صفحه ۲۰۴ محاضرات صفحه ۱۰۱ و ۳۶۲ مالک بن انس صفحه ۲۲۱ - الامام احمد صفحه ۲۳۰ مالک بن انس صفحه ۱۷۸