تاریخ افکار اسلامی — Page 102
تاریخ افکار را سلامی 1+F وصول کرنے کا بہانہ نہ بنا لیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ والیوں کی مالی حالت کا وقتا فوقتا جائزہ لیتے رہتے تھے اور بعض اوقات جس کے پاس اندازہ سے زیادہ مال پاتے آدھا بیت المال میں جمع کرا دینے کا حکم دیتے۔۷۔حضرت عمر نے ایک شخص کو مدینہ سے نکال دیا تھا کیونکہ وہ بن ٹھن کر رہتا گلیوں میں آوارہ پھرنے کا شوقین تھا اور بعض عورتوں کے لیے فتنہ کا با عث بنا تھا لے LA فتح دمشق کے موقع پر جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان علاقوں میں تشریف لے گئے تو ان دنوں وہاں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی تھی۔حضرت عمر کو مشورہ دیا گیا کہ آپ کے ساتھ بڑے بڑے صحابہ ہیں خود آپ کا وجود بھی ایک قومی امانت ہے اس لیے وباز دہ علاقوں میں جانا درست نہیں۔آپ نے صحابہ کو بلا کر مشورہ کیا۔کچھ کی رائے تھی کہ آپ کو واپس چلے جانا چاہیے اور کچھ کہتے تھے کہ جب اتنا سفر کر کے آپ آئے ہیں تو آپ کا فوجوں سے ملے بغیر واپس چلے جانا مناسب نہیں۔مشورہ کے دوران قرآن کریم کی کوئی آیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد پیش نہیں کیا گیا تھا۔اس کے باوجود آپ نے ارباب دانش کے مشورہ کے بعد یہی فیصلہ کیا کہ مصلحت اسی میں ہے کہ آگے بڑھنے کی بجائے واپس چلے جائیں۔حضرت ابو عبیدہ جو اس علاقہ کی فوجوں کے سر براہ تھے وہ حضرت عمر کا فیصلہ سن کر کہنے لگے۔افرَارًا مِّنْ قَدَرِ الله ؟ کہ اللہ کی تقدیر سے بھاگنے کے کیا معنے ؟ حضرت عمر نے فرمایا ابو عبیدہ ! تمہارے علاوہ کوئی اور یہ بات کہتا تو مجھے تعجب نہ ہوتا دیکھیں اگر وادی کا ایک کنارہ سرسبز ہوا اور دوسرا پنجر اور خشک تو تم اپنے جانور جس کنارہ پر چھاؤ گے وہ خدا کی تقدیر ہی ہو گی۔خدا کی تقدیر تو ہر حال میں ہے۔اس لیے عقل اور سمجھ کے مطابق کوئی فیصلہ کرنا تقدیر سے فرار نہیں کہلا سکتا۔مشورہ کے وقت حضرت عبدالرحمن بن عوف موجود نہ تھے وہ جب آئے اور ان کو اس مشورہ کا علم ہوا تو انہوں نے بیان کیا کہ اس بارہ میں حضور کا ایک فرمان ان کو یاد ہے حضور نے فرمایا تھا کہ وہا زدہ علاقہ میں نہ جاؤ اور جو لوگ و با زدہ علاقہ میں رہ رہے ہیں وہ وہا سے ڈر کر دوسرے علاقوں میں نہ جائیں۔( بلکہ اسی علاقہ میں رہ کر احتیاطی تدابیر اختیار کریں ) الامام احمد صفحه ۲۲۹