تاریخ افکار اسلامی — Page 104
تاریخ افکار را سلامی 1+7 حضرت امام شافعی، جس طرح استحسان کے خلاف ہیں اور حنفیوں کو نشانہ تنقید بناتے ہیں اسی طرح وہ مصالح مرسلہ اور استصلاح کے بھی خلاف ہیں۔ان کی رائے ہے کہ چونکہ مصلحت کی کوئی حد بندی نہیں کی جاسکتی اس لیے اس اصول کو اپنانے میں کافی خطرات ہیں۔اس سے شریعت کا حلیہ بگڑ سکتا ہے۔ظالم حکام مصلحت کی آڑ لے کر ظلم کے لیے جواز نکالنے میں شیر ہو جائیں گے۔علاوہ ازیں ان کے نزدیک اس اصول کو اپنانے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ قرآن وحد بیث کے بعد اگر قیاس کے اصول کو نقلمندی اور عمیق سوچ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو احکام کا معلوم کرنا کچھ ا مشکل نہ ہو گا۔اول تو نصوص ہی کچھ کم نہیں ہیں پھر ان میں جو علل اور وجوہات مضمر ہیں ان کا دائرہ بھی بڑا وسیع ہے ان کا پتہ لگا کر معاملات غیر منصوصہ کو ان پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔لیکن جیسا کہ استحسان کے بیان میں گزر چکا ہے امام شافعی کا اختلاف از جسم نزاع لفظی ہے کیونکہ مصلحت اور استصلاح کے قائل مصلحت کی تحدید کرتے ہیں۔ذاتی اغراض کو وہ مصلحت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے بلکہ اسی مصلحت کی تائید کرتے ہیں جو مقاصد شریعت کے مطابق ہے اور عام پبلک اور عوام کی اکثریت کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے اور شریعت کے مجموعی احکام اس کے مؤید ہوں لے غرف ff استنباط کی ایک بنیاد عرف ہے۔عرف سے مراد یہ ہے کہ کسی جگہ کے مسلمانوں میں ایسا رواج ہے جو بجائے خود مفید ہے یا کم از کم لوگ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔اور وہ شریعت کی کسی ہے جو بجائے خود مفیدہے یا کم ازکم لوگاس میں دلچپسی ہیں۔اور وہ کی نص کے بھی خلاف نہیں ہے عرف سے زیادہ تر کام کا روبار۔لین دین اور غیر مصر تمدنی رسم و رواج میں لیا جاتا ہے مثلاً اہل مدینہ میں بیع سلم کا رواج تھا اور لوگ اس کا روبار کے عادی تھے اس لیے استثنائی طور پر اس کی ل انما في العلماء من تقرير هذا الاصل الأخذ بالمصلحة) تقريرا صريحًا مع اعتباره كلهم خوفا من اتخاذ ائمة الجوراياه حجة لا تباع اهوائهم مالک بن انس صفحه ۳۱۸۰۲۱۷ و ۳۵۷ الامام احمد صفحه ۲۳۰ - الامام الشافعی صفحه ۲۴۵ محاضرات صفحه ۲۳۵) العرف ان يكون عمل المسلمين على امر لم يروافيه نص من القرآن والسنة او عمل الصحابة والعرف التجارى والتعامل بين التجار ميزان ضابط للتجارة اذا لم يكن مخالفًا للنص ( محاضرات صفحه ۱۷۹۹۱۷۷)