تاریخ افکار اسلامی — Page 101
تاریخ افکا را سلامی اس کا علم ہوا تو آپ نے حضرت حذیفہ کو حکم دیا کہ اس عورت کو فو را طلاق دے دو تمہاری یہ شادی مصالح امت کے خلاف ہے لیے - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو ا جازت دی کہ اگر وہ چاہے تو اپنی ہونے والی بیوی کو نکاح سے پہلے دیکھ لے۔اس کی شکل وصورت طبیعت اور رہن سہن کا جائزہ لے لے۔اس کے بالتقابل عورت کو بھی ایسے ہی جائزہ کی اجازت دی جاسکتی ہے۔یہ سب کچھ ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کی مصلحت پر مبنی ہے۔۔ایک وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پہلے دو خلفاء نے کتابت حدیث کے خاص اہتمام سے منع فرمایا تا کہ قرآن کریم کے ساتھ اشتباہ پیدا نہ ہو۔پھر ایک زمانہ ایسا آیا کہ قرآن کریم کا امتیاز لوگوں میں راسخ ہو گیا اور اشتباہ کا خطرہ باقی نہ رہا۔دوسری طرف دینی تاریخ کو محفوظ کر لینے کی ضرورت سامنے آئی۔چنانچہ پانچویں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے وقت کے ماہر علماء کو حکم دیا کہ وہ احادیث اور روایات کو اکٹھا کریں اور لکھ لیں کیونکہ اس وقت اسی میں مصلحت مضمر تھی۔۴۔یہودیوں اور عیسائیوں کو حضرت عمر کے حکم سے جزیرۃ العرب سے نکال دیا گیا تاکہ حکومت کا مرکز ان کے فتند اور سازش کی آماجگاہ نہ بن سکے۔ہے - حضرت عمر نے کبار صحابہ کو مدینہ منورہ سے باہر دوسرے ملکوں اور شہروں میں رہائش اختیار کرنے سے روکے رکھا۔اس میں متعدد مصالح آپ کے پیش نظر تھے۔مثلاً ایک یہ کہ امور مہمہ میں ان سے بر وقت مشورہ لیا جا سکے نیز دوسری جگہیں مرکز عقیدت نہ بنیں اور خلافت کا احترام کم نہ ہو۔۔ملکہ روم نے حضرت عمرہ کی زوجہ محترمہ حضرت ام کلثوم کو ایک قیمتی ہار بطور تحفہ بھیجا لیکن حضرت عمر نے وہ ہار بیت المال میں جمع کرا دیا۔مقصد یہ تھا کہ حکام اسے پبلک سے تحائف كتب عمر الى حذيفة اعزم عليك ان لا تضع كتابي هذا حتى تخلى سبيلها فانی اخاف ان یقتدی بک المسلمون فيختاروا اهل الذمة لجمالهن وكفى بذالك فتنة لنساء المسلمين۔(الامام الشافعي صفحه ۳۰۸) مالک بن انس صفحه ۲۱۲٬۳۰۸۰۳۶۰۲۵