تاریخ افکار اسلامی — Page 100
تاریخ افکا را سلامی ** باعث فخر ہوں علم و سنجیدگی کے پیکر سمجھیں جائیں۔مال کی فراوانی اور فراخی کے لیے کسب اور تقسیم دولت کے بہترین متوازن اصول۔بہتر تجارتی سہولتیں، منڈیاں بازار اور سٹورز، تحقیقات اور ریسرچ کے ادارے بہترین اور تیز رفتار ذرائع آمد و رفت، صنعت و حرفت کے فروغ کے لیے بڑے بڑے کارخانوں کا اہتمام وغیرہ۔عقل کی جلا اور ترقی کے لیے اعلیٰ علوم کی یونیورسٹیاں عمدہ لائبریریاں، اشاعتی ادارے، عمدہ اخبارات ، مطالعہ کی سہولتیں، بد اخلاقی اور آوارہ ذہنی کی روک تھام۔اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ شریعت کے تمام احکام اور اس کی ساری ہدایات نسل انسانی اور مسلم سوسائٹی کی بہبود اور اس کی مصالح پر مشتمل ہیں لے کہیں تو ان مصالح کی تصریح اور وضاحت کر دی گئی ہے اور کہیں انہیں ارباب علم و دانش کی سمجھ بوجھ پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس خفا اور ابہام سے پر وہ اٹھانے کے لیے اصول وضوابط ، قرائن و امارات کی سہولت بہم پہنچائی گئی ہے تا کہ بحیثیت مجموعی ان قرائن پر غور کر کے ارباب حل و عقد اور دانشمند علماء قومی بہبود کی راہیں متعین کر سکیں۔" مصالح مرسلہ اسی قسم کے طرز استدلال کا ایک حصہ ہیں جن کو بنیا د بنا کر حضرت امام مالک نے اجتہاد کی راہ ہموار اور وسیع کرنے کی کوشش کی ہے ہے اور مصالح پر مبنی فقہ کا ایک عمدہ ذخیرہ آئندہ نسل کی راہنمائی کے لیے مہیا کیا ہے۔”مصالح مرسلہ" کی بنا پر استدلال و استنباط کی متعد د مثالیں تاریخ فقہ نے محفوظ کی ہیں جن میں سے چند ایک کا ذکر درج ذیل ہے۔- اسلام میں اہل کتاب خواتین سے شادی کرنے کی اصولی اجازت ہے لیکن حضرت عمر نے قومی مصالح کے پیش نظر صحابہ اور حکام کو ایسی شادی سے منع کر دیا تھا کیونکہ ایسا کرنے میں بعض خطرات کا اندیشہ تھا۔حضرت حذیفہ نے ایک یہودی عورت سے شادی کر لی۔حضرت عمر کو جب تفصیل کے لیے دیکھیں۔محاضرات فی تاریخ المذاهب الفقهية صفحه ١٠٣٢٩٣ (مالک بن انسس صفحه ۲٠۲٠۱٦٦ - الامام الشافعي صفحه (۲۴۴) ما من امر شرعه الاسلام بالكتاب والسنة الا كانت فيه مصلحة حقيقية ومن المصالح لا يشهد لها او لضدها اصل شرعى ولكن يبيحها العقل ولا يأباها الشرع (محاضرات صفحه ۹۲ ۹۷ - الامام الشافعي صفحه (۲۴۴)