تاریخ افکار اسلامی — Page 272
تاریخ افکا را سلامی ۲۷۲ آغا خانی شیعه بعض دوسرے اسماعیلی فرقوں کی طرح تغمض اور تاریخ کے بھی قائل ہیں۔آغا خانی شیعوں کا کلمہ أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا رَسُولُ اللهِ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا وَصِيُّ الله ہے آغا خانی شیعوں کا باہمی سلام ، یا علی مد دادر جواب سلام مولاعلی مدد ہے۔آغا خانی شیعہ وضو کی ضرورت نہیں سمجھتے اُن کے دل کا وضو ہوتا ہے۔ہر آغا خانی شیعہ پر نماز کی جگہ تین وقت کی دعا فرض ہے۔اس دُعا میں امام حاضر کا تصور ضروری ہے۔قیام، رکوع ، سجدہ اور قبلہ رخ ہونے کی ضرورت نہیں۔اصل روزہ زبان ، کان اور آنکھ کا ہے اس لئے کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹو تھا۔اگر کوئی چاہے تو سوا پہر کا کھانے پینے کا روزہ بھی رکھ سکتا ہے۔زکوۃ سے مراد آمدنی میں سے فی روپیہ دو آنے کے حساب سے امام حاضر کی خدمت میں -1 نذرانہ پیش کرتا ہے۔حج سے مراد امام حاضر کا دیدار ہے کیونکہ زمین پر صرف وہی خدا کا روپ ہوتا ہے۔جو آغا خانی شیعہ امام حاضر کی خدمت میں ایک مقررہ رقم کے پیش کرے اُسے امام حاضر کی طرف سے اسم اعظم عطا ہوتا ہے۔اگر کوئی آغا خانی عمر بھر کی عبادت معاف کرانا چاہے تو اُسے بھی امام حاضر کی خدمت میں ایک مقررہ رقم سے پیش کرنی پڑتی ہے۔حاضر امام کے نور کو حاصل کرنے کے لئے ایک مقررہ رقم کے پیش کرنا ہوتی ہے جو آغا خانی جماعت خانوں میں بلو روان دی جاتی ہے۔ہے یہ رقم پاکستانی آغا خانی کے لئے 75 روپیہ کے قریب ہے یہ رقم پاکستانی آغا خانی کے لئے پانچ ہزار ہے یہ رقم پاکستانی آغا خانی کے لئے سات ہزار ہے یہ قواعد اور ہدایات پرنس آغا خان فیڈرل کونسل پاکستان کراچی کے ایک سرکلر سے ماخوذ ہیں جو آغا خانی برادری کی رہنمائی کے لئے جاری کیا گیا۔