تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 273 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 273

تاریخ افکا را سلامی الْقَرَامَطه ۲۷۳ عبد الله بن میمون الاسماعیلی نے اپنے عارضی مرکز اهواز سے اپنے ایک داعی الحسین الاهوازی کو دعوت اسماعیلیہ کے اشاعت کے سلسلہ میں سواد کوفہ کی طرف بھیجا جہاں وہ حَمْدان بن الاشعث قرمط سے ملا۔حمدان قرمط اس کی تبلیغ سے متاثر ہو کر اسماعیلی تحریک میں شامل ہو گیا اور بعد میں اس علاقہ کا انچارج دائی بن گیا اور بغداد کے ایک نواحی علاقہ کو مرکز بنا کر شاعت کے فرائض سر انجام دینے لگا۔جب اس کی دعوت چمکی تو اُس نے اپنے متبعین کو ہتھیار خریدنے اور انہیں اپنے پاس رکھنے کی تلقین کی۔یہ ۲۷۶ ھ کا واقعہ ہے۔اس نے اگلے ہی سال اس علاقہ میں اپنا دارالہجرت قائم کیا جسے پتھروں کی دیوار بنا کر بڑے محفو ظا قلعہ کی شکل دی اور حسب موقع اردگرد کے علاقہ میں قتل و غارت اور لوٹ مار کو اپنا پیشہ بنایا اور لوگوں میں دہشت پھیلائی۔حمدان نے عربوں میں اپنی دعوت کو فروغ دیا اور اس میں خاصی کامیابی حاصل کی۔اس نے خاص انداز کا مالی نظام بھی قائم کیا۔وہ ہر چھوٹے بڑے مرد عورت سے الْفِطْرَہ “ کے نام سے ایک درہم وصول کرنا اور ہر بالغ شخص سے الھجرہ “ کے نام سے ایک دینار لیتا اور کہتا میں قرآن کریم کے علم حد مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ تُطَهَرُهُمْ وَتُزَكيهم كی تعمیل میں یہ رقم لیتا ہوں اور السَّابِقُونَ الاولون میں داخل کرنے کی فیس اُس نے سات دینا ر مقرر کی جس کا نام اُس نے البلغہ رکھا۔جو شخص سات دینا ر ادا کرتا اُسے ایک بندق ( ریٹھہ کے برابر گولی ) کی مقدار میں بڑا لذیذ حلوئی عنایت کرنا اور کہتا۔یہ جنتیوں کا کھانا ہے جو حضرت علی پر اُتارا گیا تھا۔اپنے ہر دائی کو سات سو دینار کے بدلہ میں ایک سوگولی دیتا اور کہتا لوگوں میں تبلیغ کرو اور ان کو حلوی کی یہ گولیاں خریدنے کی ترغیب دو۔اس کے بعد اُس نے کس وصول کرنے کا آغاز کیا۔اس نے الألفہ کے نام سے ایک تحریک چلائی جس کا مقصد یہ تھا کہ تمام لوگ اپنے اموال کو ایک مرکز میں جمع کریں وہ سب ان اموال میں برابر کے شریک ہوں لے سگے۔اور اس میں سے قومی مقاصد میں بھی خرچ کیا جائے گا۔ہر ایک گاؤں میں اس نے ایک نمبر دار مقرر کیا جس ↓ ان مجتمع القرامطه قام على الشيوع والاباحة بل ذهب الى اشيع حد في الشيوع امر الدعاة ان يجمَعُوا النساء في ليلة معينة بحيث يمكن للرجال ان يستمتعوا بهنَّ في اختلاط وشيوع وكان يقول هذا اقضى درجات الصداقة والاخاء (تاريخ الجميعات السرية صفحه ٣٣) و