تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 271 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 271

تاریخ افکا را سلامی ۲۷۱ کی دہشت پسند باطنی تحریک پورے زور پر تھی جو اس کے جانشینوں کے ذریعہ برابر جاری رہی۔صلیبی لڑائیوں میں بھی بعض اوقات انہوں نے صلیبیوں کی مؤثر مدد کی۔آخر کار ہمدان کے امير ايتعمش جلال الدین بن خوارزم شاہ کی کوششوں اور فاتح بغدا دہلا کو خاں کے جملوں کی وجہ سے فارس کے علاقہ میں الحسن کی تحریک کا استیصال کر دیا گیا۔شام کے علاقہ میں ان کا زور صلاح الدین ایوبی کے ذریعہ ختم ہوا اور ایک دہشت پسند تحریک اپنے کئے کی سزا بھگت کر اپنے انجام کو پہنچی۔اب نزاری اور مستعلی اسماعیلیوں میں سے مختصر سے گروہ ہیں جو امن پسند شمار ہوتے ہیں اور اُن کے قائد بڑے سلجھے ہوئے امن پسند مشہور شہری ہیں۔اُن کی آبادیاں شام اور ہندوستان کے جنوبی ساحلوں پر ہیں۔زیادہ تر تجارت پیشہ یا صنعت و حرفت سے متعلق ہیں اور آغا خانی اسماعیلی یا ئیبرہ اسماعیلی کے نام سے مشہور ہیں۔آغا خانی اسماعیلیوں کے سربراہ آغا کریم خان ہیں اور یہ نزاری مسلک کی نمائندگی کرتے ہیں اور تیر ہ اسماعیلیوں کے سربراہ مولانا سیف الدین طاہر ہیں جن کا مرکز بمبئی میں ہے یہ مُسْتَغلیہ مسلک کی نمائندگی کرتے ہیں۔بہرہ عام طور پر ظاہری شریعت کے پابند ہیں اور فقہ جعفریہ کے قریب ہیں لیکن آغا خانی شیعہ ظاہری شریعت کی چنداں پرواہ نہیں کرتے اور اپنے امام کی باطنی اطاعت کو دین کے اغراض کے لحاظ سے کافی سمجھتے ہیں۔آغا خانی شیعوں کا ظاہری شعار کچھ اس طرح کا ہے قرآن کریم کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ظاہر حجاب اکبر ہے۔حقیقت اور باطن تک نہیں پہنچنے دیتا اس لئے اس حجاب کو دور کرنے اور نور ازلی تک پہنچنے کے لئے روحانی امام کا ہونا ضروری ہے جو علوم نبویہ کا وارث اور وصی ہوتا ہے۔یہ حاضر امام حق و باطل اور صحیح اور غلط میں تمیز کرتا ہے اور قرآن کریم کے باطنی معنوں کو بذریعہ تاویل کھولتا ہے کیونکہ وہ مجسم قرآن ناطق ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس جو قرآن ہے وہ قرآن صامت ہے۔فلم تبق لهم اهمية سياسية (الجميعات السرية صفحه ۵۲) و هم اهل نشاط وَكَرَمِ وَحُسن ونسائهم فائقات في الجمال وحرفتهم التجارة والزراعة وصناعة الخزف۔۔۔۔۔۔وانهم ما زالوا يكتمون تعاليمهم ويحرصون على اجراء شعائرهم في الخفاء ( الجميعات السرية صفحه ۵۴)