تاریخ افکار اسلامی — Page 206
تاریخ افکا را سلامی پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا وہ طرز عمل بھی کسی وقیمت کے واقعہ کی تردید کرتا ہے جو آپ نے اپنے سے پہلے تینوں خلفاء کے بارہ میں اختیار کئے رکھا۔کیونکہ شیعہ حضرات بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت علی تینوں خلفاء کے ساتھ پورا پورا تعاون کرتے رہے۔ہر اہم مشورہ میں آپ شریک ہوتے جو وظائف حضرت عمر کی طرف سے صحابہ کے مقرر ہوتے رہے وہ بڑی خوشدلی کے ساتھ حضرت علی بھی قبول کرتے۔اگر نعوذ باللہ یہ خلفاء اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے نا فرمان ہوتے اور حق خلافت انہوں نے غصب کیا ہوتا تو یہ ممکن نہ تھا کہ علی اُن سے کسی قسم کا تعاون کرتے۔علاوہ ازیں حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کا جب باہمی اختلاف ہوا اور اس سلسلہ میں دونوں کی خط و کتابت ہوئی تو اس میں بھی حضرت علی کی طرف سے یہ دلیل پیش نہیں کی گئی کہ میرے حق میں تو آنحضرت ﷺ کی وصیت موجود ہے۔تاریخ میں یہ خط و کتابت محفوظ ہے۔اپنے خطوط میں حضرت علی نے حق پر ہونے کے متعد د ولائل تحریر کئے ہیں لیکن کسی ایک خط میں بھی اپنے وصی ہونے کی دلیل پیش نہیں کی ، بلکہ ایک خط میں حضرت علی نے لکھا ہے کہ ان کے چچا عباس اور امیر معاویہ کے والد ابوسفیان نے آپ کو یہ پیشکش کی تھی کہ وہ آپ کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ خلافت اور امارت بوجہ قرابت آپ کا حق ہے لیکن آپ نے فرمایا خلافت قائم ہو چکی ہے۔لوگوں نے بیعت کرلی ہے۔اب میں تفریق بین المسلمین کا باعث نہیں بنا چاہتا اس طرح آپ نے ان دونوں بزرگوں کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اگر کوئی وصیت آپ کے حق میں ہوتی تو آپ کو استرداد کا کوئی حق نہیں پہنچتا تھا۔پھر جب آپ کی شہادت کا وقت قریب آیا اور لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ اپنے جانشین کے بارہ میں وصیت کر جائیں تو آپ نے ایک روایت کے مطابق فرمایا۔آثرُ كُكُمْ كَمَا تَرَكَكُمُ رَسُولُ الله - زید یہ شیعہ جو حضرت امام زین العابدین کے صاحبزادہ امام زید کے پیرو ہیں وہ یہ لے چنانچہ مورخین نے لکھا ہے۔كَانَ عَلِيٌّ مُوَفَّنَا إِذَا كُلَّ التَّوْفِيقِ نَاصِحًا لِلَّهِ وَلَلِاسلام كُلَّ النَّصحِ حِيْنَ امْتَنَعَ عَلى هَلَيْنِ الشَّيْخَيْنِ فَلَمْ يَنصَبَ نَفْسَهُ لِلخلافة ولم يُنَازِعَهَا أَبَا بَكْرٍ وَإِنَّمَا بَايَعَهُ كَمَا بَايَعَهُ النَّاسِ۔(على و بنوه صفح۱۸)- فَقَدْ كَانَ عَلِيٌّ مُؤْمِنَا بِالْخِلافَةِ كَمَا تَصَوَّرَهَا الْمُسْلِمُونَ أَيَّامَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَر۔(علی و بنوه صفحه ۵۹ - وقال على فى مكتوبه لمعاوية و لَعَمْرِى إِنَّ مَكَانَهُمَا اى مكان ابي بكر و ع من الاسلام لعظيم وان المصاب بهما لرزء جليل - (علی و بنوه صفحه ۶۷) على وبنوه صفحه ۶۹۲۶۷ ے طبقات ابن سعد جلد ۳ صفحه ۳۴