تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 205 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 205

تاریخ افکا را سلامی ۲۰۵ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کا یہ وصف بیان کرتا ہے اور اُن سے راضی اور خوش ہونے کا بتاتا ہے کیا اُن سے یہ توقع ممکن ہے کہ وہ سب کے سب آنحضرت میں اللہ کی وفات کے معابعد آپ کے نا فرمان بن جائیں گے یا آپ کے اس حکم کو بھول جائیں گے جو اللہ کے ارشاد کے مطابق صحابہ کو دیا تھا اور حضرت علی کے حق میں آپ نے جود اضح وصیت فرمائی تھی اُسے نظر انداز کر دیں گے۔جب آنحضرت ﷺ کے جانشین اور خلیفہ کے بارہ میں مشورہ ہورہا تھا اُس وقت کسی صحابی کو یہ توفیق نہ ملی کہ وہ حضور کی اس وصیت کا حوالہ دیتا کہ حضور تو حضرت علی کے حق میں وصیت کر گئے ہیں۔دوسرے دلائل تو بعض صحابہ نے دیئے مثلاً حضرت علی یا عباس آنحضرت ﷺ کے قریبی رشتہ دار ہیں اس لئے انہیں جانشین ہونا چاہیے لیکن کوئی بھی معتبر روایت نہیں کہ کسی نے اس موقع پر آپ کی وصیت کو بطور دلیل پیش کیا ہو یہاں تک کہ حضرت علی بھی اپنا حق جتانے کے لئے اُس وقت یہ دلیل پیش نہیں کرتے۔پھر حضرت علیؓ نے بعض روایتوں کے مطابق دوسرے یا تیسرے روز حضرت ابو بکر کی بیعت کی۔اس موقع پر آپ نے یہ شکایت تو کی کہ اتنے اہم معاملہ میں مجھ سے مشورہ نہیں کیا گیا ( كَمَا رُوِی ) لیکن یہ اظہار نہ کیا کہ میرے حق میں تو آنحضرت ﷺ کی وصیت تھی۔آپ کا بیعت کر لینا یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ کے حق میں کوئی وصیت نہ تھی ورنہ آپ آنحضرت کی صریح نا فرمانی کرنے والے کی بیعت ہرگز نہ کرتے کیونکہ یہ جرم اُس جرم سے بڑا تھا جس کا یزید نے ارتکاب کیا تھا جس کی وجہ سے حضرت امام حسین نے میز بیلہ کی بیعت نہ کی تھی بلکہ اس کے خلاف تلوار اُٹھائی۔پھر اگر ہم اس واقعہ کو درست مان لیں کہ حضور ﷺ نے حضرت علیؓ کے حق میں وصیت کی تھی جسے نعوذ باللہ صحابہ نے تسلیم نہیں کیا تو قرآن شریف کا اعتبار اٹھ جاتا ہے اور اُس کی اُن متعد د تصریحات میں کوئی وزن باقی نہیں رہتا جو صحابہ کی قربانیوں کی قبولیت کے بارہ میں وہ دہرا دہرا کر اور تکرار کے ساتھ بیان کرتا ہے۔لہذا کوئی روایت خواہ کوئی اس کا نام حدیث رکھ لے درست نہیں ہو سکتی جو قرآن کریم کے خلاف ہو او راس کی تصریحات کی تردید کرتی ہو اور اس کے بیان کردہ واقعات کو جھٹلاتی ہو۔لے حضرت ابو بکر آنحضرت ﷺ کے کتنے فرمانبردار اور آپ پر کتنے فدا تھے اس کا ثبوت جیش اسامہ کے واقعہ سے پتا چلتا ہے۔بڑے صحابہ مشورہ دے رہے ہیں کہ شکر کی روانگی ملتوی کر دی جائے لیکن آپ نے کہا کہ خلیفتہ الرسول بننے کے بعد پہلا کام میں یہ کروں کہ حضور کے فیصلہ کو بدل دوں۔الکامل لابن اثیر جلد ۲ صفحه ۳۱۷