تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 137 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 137

تاریخ افکا را سلامی ۱۳۷ امام محمد بن حسن الشیبانی آپ کے براہ راست شاگرد ہیں۔امام شافتی آپ کے حلقہ درس میں دس سال کے قریب رہے اور امام محمد حضرت امام ابو حنیفہ کی وفات کے بعد عراق سے مدینہ آئے اور تین سال کے قریب آپ کے پاس رہ کر علم حدیث حاصل کیا۔ان کے علاوہ کچھ خلفاء عباسیہ بھی آپ کے حلقہء درس سے مستفید ہوئے اور موطا کا سماع حاصل کیا۔ابو جعفر منصور، ہادی، مہدی، ہارون الرشید ، الامین اور مامون الرشید سبھی نے آپ کی شاگردی کا شرف حاصل کیا ہے مصر اور اندلس کے جن شاگردوں کے ذریعہ آپ کا فقہی مسلک ان ملکوں میں مقبول ہوا وہ اپنے زمانہ کے مانے ہوئے با اثر فقیہ تھے۔عبد الرحمن بن قاسم عبد اللہ بن وہب ، اشہب بن عبد العزیز ، عبد الله بن غانم الا فریقی اور یحیی بن یحیی الا عدسی آپ کی خدمت میں پڑھنے کے لئے آئے اور امام مصر اور امام اندلس بن کر واپس گئے۔عبد الرحمن بن عبد القاسم قریباً ہمیں سال تک امام مالک کی خدمت میں رہے مالکیوں میں ان کی وہی حیثیت ہے جو حنفیوں میں امام محمد بن حسن الشیبانی کی تھی۔امام ابن حزم الاندلسی کہا کرتے تھے کہ مالکی فقہ کے مدون ابن القاسم ہیں۔مالکی فقہ کی مشہور کتاب ” الْمُلَوَّنه “ انہی کا ذہنی شاہکار ہے۔اسد بن فرات اور عبد السلام بن سعید الملقب به سحنون دونوں نے اپنے استاد ابن القاسم سے معد وفقہی سوالات کئے ان میں سے بعض سوالات امام محمد بن حسن الشیبانی کی آراء سے مستقبط تھے۔ابن القاسم نے ان سوالات کے جو جوابات دیئے وہ حضرت امام مالک کی آراء کی روشنی میں تیار کئے گئے تھے۔یہیں سوال و جواب بعد میں ” مدونه سحنون" کے نام سے مشہور ہوئے۔یہ کتاب قریبا ۳۶ ہزار مسائل پر مشتمل ہے۔کے ابن القاسم ۱۹۱ ھ میں فوت ہوئے۔قال احد وزیر صلاح الدين الايوبي ما اعلم رحلة خليفة الى عالم في طلب العلم الا للرشيد فانه رحل يولليه الامين و المأمون لسماع المؤطا الى مالك۔۔۔۔وقبل ذالك بعث المهدى اليه ولديه الهادى والرشيد (مالک بن انس صفحه (۹۵) المدونة قد صدرت عن اجابات لا بن القاسم باراء مالك وان كثيراً من المنقول عن اصحاب مالک هورای ابن القاسم و استحسانه وقياسه۔۔۔و روايته عن مالك ارجح الروايات في المذهب مالک بن انس صفحه ۲۶۵، ۲۶۸، ۲۷۸ - الامام الشافعی صفحه ۱۷۵ يقول المالكية الأمهات اربع المدونة لسحنون، الواضحة لابن حبيب والعنبية للعتبي تلميذ لا بن حبيب و الموازية لمحمد ابن المواز - مالک بن انس صفحه ۲۷۳)