تاریخ افکار اسلامی — Page 66
تاریخ افکار را سلامی باتیں اور واقعات ہیں جن کے بارہ میں ذرہ بھی شک نہیں اور کوئی عقلمند انسان جو اسلام کی دینی تاریخ سے واقف ہے اور مسلم معاشرہ کو جانتا ہے وہ ایسے عملی واقعات سے انکار نہیں کر سکتا ہے البتہ قولی تواتر کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں مثلاً کہا گیا ہے کہ حدیث مَنْ كَذَبَ عَلَى مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَرَّءُ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ متواتر ہے یعنی آنحضرت کی طرف کوئی جھوٹ موٹ منسوب کرنا انسان کو جہنمی بنا دیتا ہے۔اس حدیث کو اتنے لوگوں نے اور اتنی کثرت کے ساتھ روایت کیا ہے کہ اس کا درست اور صحیح ہونا یقینی ہے۔حدیث انما الاعمال بالنیات کو بھی بعض نے متواتر کہا ہے اور اس کا مفہوم یقینی ہے۔امام شافعی حدیث متواتر کو حدیث العامہ بھی کہتے ہیں۔راویوں کی تعداد کے اعتبار سے حدیث کی دوسری قسم مشہور ہے۔یہ وہ حدیث ہے جس کی سند میں کسی جگہ بھی تین سے کم راوی نہ ہوں۔حدیث کی تیسری قسم عزیز ہے۔یہ ہ حدیث ہے جس کی سند میں کسی جگہ بھی دو سے کم راوی نہ ہوں۔حدیث کی چوتھی قسم غریب ہے۔یہ وہ حدیث ہے جس کی سند میں کسی جگہ ایک راوی رہ گیا ہو۔مؤخر الذکر حدیث کی تینوں قسموں میں یعنی مشہور عزیز اور غریب کا اصطلاحی نام خبر احادیا اخبارا حاد ہے۔امام شافعی ان کو حدیث الخاصہ بھی کہتے ہیں۔خبر واحد (خواہ وہ مشہور ہو یا عزیز یا غریب) کو دینی اور شرعی مآخذ کے طور پر تسلیم کرنے کے لئے علم حدیث کے ماہرین نے جو شرائط مقر ر کی ہیں وہ یہ ہیں :۔ا سند متصل ہو، منقطع یا مرسل نہ ہو۔سند کے راوی معروف ہوں لوگ انہیں جانتے ہوں وہ مستور الحال نہ ہوں۔سند کے یہ راوی نیک ہوں۔بچے اور صادق القول ہوں۔ان صفات کا اصطلاحی نام لے تواتر عملی یعنی سنت کی سب سے عمدہ اور واضح تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے رسالہ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی کے صفحہ (۴) پرتحریر فرمائی ہے آپ فرماتے ہیں ”سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تواتر رکھتی ہے اور ابتدا سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور قدیم سے عادۃ اللہ ہی ہے کہ جب انبیا علیہم السلام خدا کا قول لوگوں کی ہدایت کے لئے لاتے ہیں تو اپنے فعل سے یعنی عملی طور پر اس قول کی تفسیر کر دیتے ہیں اور دوسروں سے بھی عمل کراتے ہیں۔"