تاریخ افکار اسلامی — Page 65
تاریخ افکا را سلامی جاتا لیکن بعد میں جب حزبی اختلاف بڑھے اور عجمی عناصر بکثرت اسلام میں شامل ہوئے اور تمدنی مسائل نے وسعت اختیار کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی احادیث منسوب کرنے کی جرات کی جانے لگی۔اس سے سمجھدار اور علم کا حامل طبقہ خاصہ پریشان ہوا اور اس سراسر غلط اور نقصان دہ رجحان کی روک تھام اور صحیح احادیث کی پہچان کے لئے یہ پوچھا جانے لگا کہ اس حدیث کی روایت کرنے والا کون ہے اور اس کے معتبر ہونے کے کیا قرائن ہیں یا یہاں سے سند اور راویوں کی چھان بین کے لئے اصول مرتب کرنے کی طرف توجہ مبذول ہوئی۔اس طرح سند کی اقسام ، حدیث بیان کرنے والے راویوں کی تعداد۔ان کے حالات زندگی اور سیرت کے مختلف پہلو جاننے کی جد وجہد کا آغاز ہوا اور اصطلاحات احادیث اور اسماء الرجال کا وہ عظیم الشان فن معرض وجود میں آیا جس کی مثال مسلم معاشرہ کے سوا دنیا کی کسی اور قوم میں نہیں ملتی ہے صحت اور حمیت کے لحاظ سے احادیث کی اقسام سند اور راویوں کی تعداد کے اعتبار سے احادیث کو چا را قسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔متواتر اور مشہور عزیز اور غریب متواتر وہ حدیث ہے جس کو مختلف علاقوں کے اتنے راویوں نے بیان کیا ہو جن کا جھوٹ پر متفق ہو جانا عقلاً اور عادتاً محال ہو نیز جو بات حدیث میں بیان ہوئی ہو وہ ایک مشاہدہ میں آجانے والی بات ہو کسی نظریہ یا عقیدہ کی بنا پر محض خوش فہمی سے اس کا تعلق نہ ہو۔عملی تواتر کی تو بے شمار مثالیں ملتی ہیں مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پانچ نمازیں پڑھا کرتے تھے۔فلاں نماز کی اتنی رکعات ہیں۔آپ نے حج کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف فرمایا۔آپ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آبسے تھے۔مکہ کو آپ نے فتح کیا تھا۔غرض ایسی بے شمار لم يكن العلماء يسئلون عن الاسناد فلما وقعت الفتنة قالوا سموا لنا رجالكم (مالک بن انس صفحه ۲۱۳) يقول المستشرق الا لما ني لم يكن فيما معنى من الامم السابقة كما لا الآن أمة من الامم المعاصرة انت في علم اسماء الرجال بمثل ما جاء به المسلمون في هذا العلم العظيم الذي يتناول اسماء خمس مائة الف رجل وشئونهم۔مالک بن انس صفحه ۱۹۲)