تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 31 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 31

اور نقل میں قضا نظر آئے وہاں وہ عقل کو نظر انداز کر دیں گے اور نقل یعنی روایت کو تسلیم کر لیں گے بشر طیکہ اس کی سند صحیح ہوا اور راوی ثقہ ہوں۔معتزلہ عقل کی حکمرانی کے قائل ہیں نقل کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے جہاں انہیں بظاہر عقل اور نقل میں تضا نظر آئے تو وہ فقل کی تاویل کریں گے یا نقل کو نظر انداز کر دیں گے خواہ سند کے لحاظ سے وہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔لے سلفیه سلفیہ سے مرا داہل السنت والجماعت کا وہ گروہ ہے جو اسلام یعنی صحابہ اور تابعین کے مسلک پر گامزن ہونے کا دعویدار ہے۔اس گروہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ دین کے معاملہ میں وہ نئے نئے نظریات اور ان کی تشریحات میں نہیں پڑتے بلکہ ان سب سوالوں کو حوالہ بخدا کرتے ہیں جو مسائل دینیہ کے بارہ میں ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔سلفیہ تقلید کے بھی خلاف ہیں وہ فقہی مسائل میں کسی امام فقہ کی پیروی نہیں کرتے تا ہم حضرت امام احمد بن حنبل کی آراء کو وہ بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں امام ابن تیمیہ اس مسلک کے بڑے سرگرم داعی تھے۔موجودہ اہلحدیث جنہیں عوام وہابی کہتے ہیں اپنے آپ کو سلفیہ میں ہی شمار کرتے ہیں۔دلائل کے مختلف انداز سلفیہ دلائل کے اس انداز کے بھی خلاف ہیں جو قرآن وحد بیث سے ماخوذ نہ ہو بلکہ عقلی اور فلسفی علوم پر اس کی بنیا دہو۔اس کی وضاحت یوں ہے کہ علماء متکلمین نے نظریات اور دینی مسلمات کے اثبات کے لئے بالعموم پانچ انداز اختیار کئے ہیں۔فلاسفہ اسلام کا انداز۔معتزلہ کا انداز۔ماتریدیہ کا انداز۔اشاعرہ کا انداز۔سلفیہ کا انداز۔فلاسفہ کا انداز یہ ہے کہ عقائد اور مافوق الطبعیہ مسلمات کے اثبات کی بنیا دیر بان منتقلی پر رکھی جائے کیونکہ یقین اسی طرح حاصل ہوتا ہے کہ عقل ان کی صحت کو تسلیم کرے۔ان کے نز دیک قرآن کریم کا انداز خطابی ہے جس سے عوام تو مطمئن ہو سکتے ہیں لیکن اہل بصیرت کی اس سے تسلی ↓ تاريخ المذاهب الاسلامية۔صفحه ۲۳۸