تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 32 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 32

تاریخ افکا را سلامی Fr نہیں ہوتی اس لئے عقلی دلیل کا تتبع ضروری ہے۔معتزلہ کا انداز فلاسفہ کے انداز سے ملتا جلتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ عقائد کے اور اک اور اثبات کے لئے براہین عقلی کی ضرورت ہے۔تاہم قرآن کریم اور احادیث سے ان دلائل کی تائید حاصل کی جانی چاہیے لیکن جہاں نقل اور عقل میں اختلاف ہو وہاں عقل کو تر جیح ہوگی اور نقل کی تاویل کی جائے گی۔ماتریدیہ کا انداز یہ ہے کہ عقائد کے اثبات اور ادارک کی بنیا د نقل یعنی قرآن کریم اور احادیث پر ہے تاہم ان کی تائید میں عقلی دلائل کی جستجو بھی ضروری ہے کیونکہ عقلی اطمینان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اشاعرہ کا انداز یہ ہے کہ عقائد کے اثبات کے لئے نقل یعنی قرآن و سنت کو اصل بنیاد بنایا جائے۔اگر عقل کی تائید بھی حاصل ہو جائے تو چشم ما روشن دل ما شا د اور اگر عقلی دلائل کی تائید میسر نہ آسکے تو پر واہ نہیں۔ترجیح بہر حال نقل کو حاصل ہے اور عقلی پہلو کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔سلفیہ کا اندازان چاروں سے مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ عقائد کے اثبات کے لئے نقل کافی ہے یعنی جو کچھ قرآن وسنت میں آیا ہے اس پر اکتفا کرنا چاہیے فلسفی یا منطقی انداز بدعت ہے کیونکہ ++ سلف صالحین نے یہ انداز اختیار نہیں کیا تھا اس لئے ہم بھی اس انداز کو اختیار نہیں کر سکتے۔سلفیہ کی امتیازی خصوصیات سلفیہ ان تمام اسماء صفات اور احوال کو بلاتا ویل درست مانتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم یا احادیث میں آیا ہے یہی وجہ ہے کہ سلفی خدا کے چہر ہ ، ہاتھ اور آنکھے اور اس کے استولى على الْعَرْشِ يَا نُزُولُ إِلَى السَّمَاءِ الاول - اس کی محبت اس کے غضب وغیرہ کوائف کو کسی قسم کی تاویل کے بغیر ظاہر کے مطابق درست تسلیم کرتے ہیں۔اس سلسلہ میں امام بن تیمیہ لکھتے ہیں۔سلف صالحین کا مسلک ان احوال الہی کے بارہ میں تجسیم اور تمثیل کے بین بین ہے۔وہ خدا کے چہرے اس کے ہاتھ اس کی آنکھوں اس کے فوق اور اس کے نزول وغیرہ کو بلا کیف مانتے ہیں۔وہ کہتے ہیں خدا نے اپنی جو صفات قرآن کریم میں